www.facebook.com/shah Naqvi

نئی ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے امید ہے کہ بیرون ملک پاکستانی اپنے اثاثے ظاہر کر سکیں گے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق سب سے زیادہ اثاثے ظاہر کرنے والوں کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہو گا جس کی مالیت 346 ارب ہو گی۔ اس کے بعد سوئٹزر لینڈ کا نمبر آتا ہے جہاں سے ظاہر کردہ اثاثوں کی مالیت 114 ارب روپے ہو گی۔ جب کہ برطانیہ سے 90 ارب ، سنگا پور 88ارب روپے اور برٹش ورجن آئی لینڈ سے اثاثوں کی مالیت49 ارب روپے ہو گی۔ ڈائریکٹر جنرل کے مطابق متحدہ عرب امارت، سنگا پور، برطانیہ اور کینیڈا سے اچھا رسپانس ملا ہے۔ زیادہ تر بیرونی اثاثے انھی ملکوں سے بلیک اکنامی سے قانونی شکل میں ڈھلیں گے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان باہمی سمجھوتے کے تحت ان دونوں ملکوں نے پراپرٹی کے حوالے سے مکمل تفصیلات پاکستان کے حوالے کیں جس میں بینکوں میں رکھی گئی رقوم کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے ان تفصیلات کا اعلان ڈائریکٹر جنرل نے گزشتہ پیر کو دبئی میں پاکستانی قونصلیٹ میں ایک بریفنگ میں کیا۔

انھوں نے کہا اس اسکیم کا اصل مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا ہے۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ ایک رپورٹ کے مطابق زیر زمین معیشت پاکستان کی کل جی ڈی پی کا 80 سے90 فیصد ہے۔ انھوں نے وارننگ دی کہ اب ترقی یافتہ ملکوں میں بین الاقوامی سطح پر مالی معاملات میں شفافیت کا دور آ گیا ہے چنانچہ انھوں نے شفافیت کو حاصل کرنے کے لیے اپنے ملکوں میں قانونی رکاوٹوں کو دور کر دیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ پچھلے سال ہم نے بیرون ملک اثاثوں کی تفصیلات 28 ملکوں سے حاصل کی۔ اس سال ان ملکوں کی یہ تعداد71تک پہنچ جائے گی اور تعداد ہر سال بڑھتی چلی جائے گی۔یہاںتک اگلے دو سے تین سال میں سو کا ہندسہ عبور کر لیں گے۔ دبئی میں پاکستان بزنس کونسل کے صدر نے کہا کہ اگر اس اسکیم میں توسیع نہ کی گئی تو یہ ساری اسکیم بے کار ہو جائے گی۔ اس اسکیم میں توسیع سے بہت سارے لوگ جو اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں شامل ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نان ریذیڈنس پاکستانی کا اسٹیٹس 180 سے90 دنوں تک محدود نہ کرے کہ اتنے کم دنوں میں ہم بیرون ملک سے ملٹی ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری پاکستان میں نہیں لا سکتے۔

ایف بی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایاکہ اسلام آباد نے آئی ایم ایف سے کہا کہ ایمنسٹی اسکیم میں توسیع نہیں کی جائے گی۔بیرون ملک پاکستانیوں کے پاس پاکستان یا بیرون ملک اثاثوں دولت بانڈز کو قانونی کرانے کا سنہری موقع ہے اس کے بعد انھیں کوئی موقعہ نہیں ملے گا۔ وہ لوگ جن کا نام پاناما وغیرہ میں ہیں وہ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی ڈیڈ لائن میں توسیع کا اشارہ دے دیا ہے۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ہم پاکستانی آخری وقت میں سب کچھ کرتے ہیں۔ اب ایک دم پریشر آ گیا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وقت بہت کم ہے لیکن ہم رجسٹر ہونا چاہتے ہیں۔ اس کے اوپر ہم 30جون کے بعد48گھنٹوں میں کوئی پروگرام لے کر آئیں گے۔اس آزمائشی معاشی حالات کے پس منظر میں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے مشکل اقدامات کو کامیاب بنانے کے لیے سب کو ذمے داری ادا کرنا ہو گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت نے مشکل فیصلے کیے ہیں لیکن طویل المدتی فوائد کے لیے یہ فیصلے ضروری ہیں اور ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔

آرمی چیف نے برطانوی تاریخ دان پاول کینیڈی اور ورلڈ بینک کے سابق صدر رابرٹ میکنا مارا کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پال کینیڈی نے کہا تھا کہ کسی قوم کی دفاعی مضبوطی کا انحصار معاشی مضبوطی پر ہے۔ جب کہ میکنا مارا کے مطابق ترقی کے بغیر کوئی سیکیورٹی نہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم سب کو اسی حوالے سے اپنی ذمے داریاں ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مشکل حکومتی اقدامات کامیاب ہو سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم انشاء اللہ ان مشکلات سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔ وقت آگیا ہے کہ ہمیں ایک قوم بن کر سوچنا ہو گا۔

فرد ہو یا قوم یہی عالمگیر سچائی ہے کہ معاشی خود مختاری ہی اصل آزادی ہے اور معاشی خود مختاری کے بغیر حقیقی آزادی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ آرمی چیف کے مطابق معاشی خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ امن ہو  تاکہ ملک ترقی کر ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ خطے میں امن ہو۔ کیونکہ جب تک خطے میں امن نہ ہو ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ آرمی چیف نے بالکل درست کہا کہ ہم اس وقت جس مشکل معاشی حالات سے گزر رہے ہیں اس کی وجہ ماضی کی مالیاتی بد انتظامی ہے۔ کیونکہ ہم وقتی، سیاسی اور پارٹی مفادات کے لیے ایسے مشکل فیصلے کرنے سے گریز کرتے رہے جو ملک کے لیے طویل مدت میں فائدے مند ہوتے ۔ آرمی چیف نے پوری قوم کوموجودہ حالات میں متحد ہو کر اپنی ذمے داریاں ادا کرتے ہوئے حکومت کے مشکل حکومتی اقدامات کا ساتھ دینے پر زور دیا۔

چنانچہ حکومت کے جانے کے حوالے سے بھی وہ افواہیں بھی دم توڑ جائیں گی کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر نہیں ۔ آرمی چیف کا حالیہ دورہ برطانیہ اور خلیج میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگی ماحول اور افغانستان میں پاکستان کا کردار پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا تعاون۔ امریکا برطانیہ اور خطے کی تمام قوتوں کو اب پاکستان پر انحصار کرنا ہو گا۔ اگلے پانچ سال میں کیا ہو گا؟ اگست سے دسمبراس کا نقشہ کھینچ دیں گے ۔ جو دیوار پر لکھا نظر آئے گا۔

سیل فون:0346-4527997

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here