کچھ ماہرین نے بعض ممالک کے انٹرنیٹ تک رسائی ختم کرنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فوٹو : فائل

روس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے عالمی انٹرنیٹ کے متبادل انٹرنیٹ کا پورے ملک میں کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔ اس تجربے کی تفصیلات میں ابہام موجود ہے تاہم روسی حکومت کے مطابق عام صارفین کو کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی، اب نتائج کو روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ان کی منظوری کے بعد اس کو باقاعدہ طور پر رائج کردیا جائے گا۔

کچھ ماہرین نے بعض ممالک کے انٹرنیٹ تک رسائی ختم کرنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی آف سرے کے کمپیوٹر سائنس دان پروفیسر ایلن ووڈ ورڈ کا کہنا ہے کہ روس کے اس سفر کا رخ حکومت کے انٹرنیٹ کو توڑنے کی طرف ایک قدم ہے جس پر پروفیسر ایلن نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ امریکا چین تجارتی جنگ انٹرنیٹ کو تقسیم کر رہی ہے۔ آمرانہ ممالک چاہتے ہیں کہ وہ شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی کو کنٹرول کر سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی لوگ اس بارے میں معلومات تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے کہ ان کے ملک میں کیا چل رہا ہے۔ وہ اپنے آپ میں ہی مگن رہیں گے۔

ان اقدامات کا مقصد روس کا اپنے نیٹ ورک کو اپنے عالمی  حریف امریکا سے تعلق کو محدود کرنا ہے اور شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی کو کنٹرول کرنا ہے ۔ واضح رہے دنیا کے ممالک زیرسمندر تاروں کے ذریعے بین الاقوامی نیٹ ورک سے سروسز وصول کرتے ہیں۔ جہاں سے دوسرے ممالک کے مواصلاتی نیٹ ورک پر اور دوسرے ممالک کو ڈیٹا منتقل کرنے کے لیے رابطے کے مقامات ہوتے ہیں۔ ایک ملک کے پاس جتنے زیادہ نیٹ ورک اور رابطے ہوں گے وہاں رسائی پر کنٹرول کرنا اتنا ہی مشکل ہو گا، اس لیے روس کو متبادل نظام بنانے کی ضرورت ہوئی۔

ایران میں نیشنل انفارمیشن نیٹ ورک ویب سروز تک رسائی دیتا ہے لیکن نیٹ ورک پر موجود تمام مواد کی نگرانی کی جاتی ہے اور بیرونی معلومات کو محدود رکھا جاتا ہے۔ اسے ایران کو سرکاری ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی چلاتی ہے۔ انٹرنیٹ رسائی کو حکومت کے زیرکنٹرول لانے کا فائدہ یہ ہے کہ ورچول پرائیویٹ نیٹ ورک کام نہیں کریں گے۔ اس کی ایک مثال چین کی گریٹ فائر وال ہے جو بین الاقوامی انٹرنیٹ سروسز تک رسائی بند کرتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here