کچھ دیر قبل برادرم ڈاکٹر آفتاب محسن کا فون آیا کہ شوگر کے عالمی دن کے حوالے سے ایک خاص تقریب 14نومبر کو صبح گیارہ بجے اسمبلی ہال کے سامنے کھلی جگہ پر منعقد کی جارہی ہے جس میں اس مرض کے بارے میں معلومات دینے کے ساتھ ساتھ رعایتی قیمت پر دوائیاں بھی تقسیم کی جائیں گی اس مرض کی نوعیت ، اہمیت اور علاج کے بارے میں رہنمائی کرنے کے لیے اس شعبے کے بڑے بڑے ماہرین شریک ہوں گے اور میری طرح کے ایسے ’’شوگر زدہ‘‘ افراد کو بھی مدعو کیا جائے گا جن کو کسی نہ کسی حوالے سے لوگ پہلے سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔

ادب ، صحافت ، تعلیم، ڈرامے اور شوبز کے حوالے سے بے شمار تقریبات میں شرکت کا موقع ملتا رہتا ہے مگر بطور ایک ماڈل مریض کے یہ رونمائی یقیناً ایک نیا تجربہ ہے۔ چند برس قبل DIPڈیپ کلینک والے برادر عزیز ڈاکٹر صداقت علی نے شوگر کے مرض کی آگاہی مہم کے حوالے سے میرا ایک بیان اور تصویر اپنے بروشر میں شایع کی تھی اور اسی زمانے میں انسولین بنانے والی ایک مشہور جرمن کمپنی نے بھی کرکٹر وسیم اکرم اور فنکارہ زیبا بختیار کے ساتھ مجھے اپنے مثالی مریضوں میں شامل کیا تھا مگر اس موجودہ اور براہ راست عوامی رونمائی کا سارا کریڈٹ برادرم آفتاب محسن اور ڈاکٹر جاوید اکرم کو ہی جاتا ہے کہ اس کیس میں مجھے دھکا دینے والے یہی دو عزیز دوست ہیں۔

جہاں تک اس مہم اور شوگر کے مرض کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کا تعلق ہے میرے خیال میں یہ ایک ایسا عمل ہے جسے مسلسل جاری رہنا چاہیے کہ آج کل بعض اوقات ایسے ایسے مسئلوں کے بھی عالمی دن منائے جاتے ہیں جنھیں مسئلہ سمجھنا اپنی جگہ پر ایک مسئلہ بن جاتا ہے، مثال کے طور پر گزشتہ دنوں ’’ہاتھ دھونے کا عالمی دن‘‘ بھی منایا گیا جس پر انور مسعود نے کچھ یوں تبصرہ کیا کہ

ہاتھ دھونے کا عالمی دن تھا

اس لیے میں نے منہ نہیں دھویا

لیکن شوگر جسے حکماء کی زبان میں ’’ذیابیطیس‘‘ بھی کہا جاتا ہے ایک ایسا خطرناک اور بین الاقوامی مرض ہے کہ قدیم ترین انسانی تاریخ میں اس کا ذکر ملتا ہے اور 1922 میں انسولین کی ایجا د سے قبل اس کے مریض کو ناقابل علاج سمجھ کر’’قسمت‘‘ کے حوالے کردیا جاتا تھا کہ وہ اسے کب تک اور کتنا گھسیٹتی ہے۔ گزشتہ ایک صدی میں اس مرض اور اس کے ممکنہ علاج پر بے حد کام ہوا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر یہ اس کے متاثرین کی تعداد بوجوہ ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے مگر اب اس کا شمار اُن بیماریوں میں ہوتا ہے ہمیں عالمی معاشی اصطلاح میں زیادہ سے زیادہ گرے لِسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے ۔

میں اس مرض کا شکار کب ہوا اس کے بارے میں تو وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ اس کا انکشاف 1990 میں سعودی عرب کے دارالخلافہ ریاد کی کنگ خالد لیب میں ایک اتفاقی ٹیسٹ کے ذریعے ہوا جس کا اہتمام ہمارے دوست ڈاکٹر انور نسیم نے کرایا تھا جو ان دنوں وہاں یونیورسٹی کے پروفیسر تھے اصل میں یہ اپوائنٹ منٹ میری بیگم کے معدے کے ایک ٹیسٹ کے حوالے سے تھی جس کے دوران وہاں کے انچارج نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ باقاعدگی سے اپنا ہیلتھ ٹیسٹ کراتے ہیں۔

میں نے بتایا کہ یہ کام تو میں نے کبھی ’’بے قاعدگی‘‘ سے بھی نہیں کیا۔ سو انھوں نے جدید ترین مشینوں پر میرے کچھ ٹیسٹ کیے جو اس اعتبار سے انتہائی دلچسپ اور حیران کن تھے کہ آپ اسکرین پر اپنے دل کی نقل و حرکت کو نہ صرف کھلی آنکھ سے دیکھ سکتے تھے بلکہ ’’دل‘‘ کے حوالے سے اُردو شاعری کے بہت سے استعارے بھی شک کی لپیٹ میں آجاتے تھے باقی سب کچھ تو ٹھیک نکلامگرخون میں شوگر کی تعداد302بتائی گئی جو تعزیرات پاکستان کے حوالے سے اپنی جگہ پر انتہائی خطرناک ہندسہ تھا چند برس تک مختلف قسم کی گولیاں کھانے کے بعد میری ملاقات ڈاکٹر صداقت صاحب ہی کے ڈائی بیٹک سینٹر میں ڈاکٹر امتیازحسن سے ہوئی جو آج بھی ماشاء اللہ دیکھنے میں اُسی طرح ہیں جیسے 25 برس قبل نظر آتے تھے انھوں نے اس مرض کے بارے میں جو باتیں اور جس واضح اور موثر انداز میں مجھے سمجھائیں میری خواہش ہے کہ شوگر کے ہر مریض کو ان سے آگاہی ہوسکے کہ دشمن کی پوزیشن کی صحیح نشاندہی اور اُس کے ہتھیار کی نوعیت اور طریقِ استعمال سے واقفیت آپ کے مقابلے کی استعداد اور آپ کی ہمت میں اضافہ کرتی ہے۔

امتیاز بھائی نے جو سب سے پہلی بات مجھے بتائی وہ یہ تھی کہ یہ شوگر ایک ایسا مرض ہے جو آپ کی فزیکل کیمسٹری کا ایک مستقل حصہ بھی ایک طرح سے way of life ہے کہ اب آپ نے باقی عمر اس کے ساتھ رہنا ہے ایک اچھی بات یہ ہے کہ آپ اس کے رحم و کرم پر نہیں ہیں بلکہ مناسب اور صحیح علاج اور پرہیز اور احتیاط کے ساتھ آپ اس کو ایسے کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں کہ یہ آپ کو مزید نقصان نہ پہنچا سکے اس ضمن میں ان کا ایک جملہ ایسا ہے جیسے اگر سیکڑوں کتابوں پر بھاری ہے توغلط نہ ہوگا انھوں نے کہا ایک بات ہمیشہ یاد رکھیئے گا کہ

’’شوگر سے ڈرنا نہیں اور اس سے لڑنا نہیں‘‘

بدقسمتی سے ہمارے یہاں جن سینہ گزٹ بیماریوں اور ان کے خاتمے کے طریقوں کا بہت زیادہ پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے وہ یا تو سراسر تشہیری ہوتا ہے یا اُن میں مستثنیات سے قانون یعنی exception سے Rules بنانے کا روّیہ روا رکھا جاتا ہے جو زیادہ تر کیسوں میں سدھار کے بجائے مزید بگاڑ کا باعث بنتا ہے ایسے میں اس طرح کی آگاہی مہمات بے حد فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں ۔ ڈاکٹر آفتاب محسن نے بتایا کہ  14نومبر کو صبح نو سے شام6 بجے تک نہ صرف اس مرض کے بہترین ماہرین وہاں مفت مشورے کے لیے موجود ہوں گے بلکہ مفت اسکریننگ ، شوگر ٹیسٹ اور آنکھوں کے مرض جاننے کا انتظام بھی ہوگا دوا ساز یکساں خصوصی رعایتی نرخوں پر ادویہ فروخت کریں گی اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور ممبران بھی اس تقریب میں خصوصی شرکت کریں گے۔

انور مسعود سے میری دوستی اور رشتہ داری اپنی جگہ مگر ہماری روزمرہ زندگی کے معاملات اور مسائل پر جتنی عمدہ اور برجستہ شاعری انھوں نے کی ہے اس کی وجہ سے عموماً سب سے پہلے ان ہی کا کوئی شعر ذہن میں آتا ہے مثال کے طور پر شوگر اورشریعت کے ملاپ کا یہ کمال کہ

مجھ کو شوگر بھی ہے اور پاسِ شریعت بھی ہے

میری قسمت میں نہ میٹھا ہے نہ کڑوا پانی

اس موقع پر مجھے مرحوم ڈاکٹر فیصل مسعود بھی بہت یاد آرہے ہیں یوں تو وہ ہر موضوع پر ہی بہت اچھا بولتے تھے لیکن شوگر کے مرض پر تو یہ عالم ہوجاتا ہے کہ’’ وہ کہیں اورسنا کرے کوئی‘‘ ۔حکومت کو چاہیے (کہ جس میں ڈاکٹر یاسمین راشد جیسے ماہرین ڈاکٹر بھی شریک ہیں) کہ وہ محکمہ صحت اور میڈیا کے تعاون سے اس طرح کی آگاہی مہموں کا نہ صرف خود اہتمام کرے بلکہ جہاں بھی کوئی اور ایسا کام کرے اس کی بھرپور مدد اور سرپرستی کی جائے کہ اس کارخیر کا ایک ہی جواب ہے ’’خیر ہو آپ کی‘‘ ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here