وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ رحیم یار خان ریلوے کے ہولناک حادثے کی ذمے داری قبول کرتا ہوں اور اگر ضمیر پر بوجھ محسوس کیا تو وزارت سے مستعفی ہوجاؤں گا۔ ان سے قبل ایک وفاقی وزیر نے یہ بات کہی تھی کہ حادثے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان پر شیخ رشید نے اپنے ضمیر پر بوجھ محسوس کیا تو ہوسکتا ہے وہ مستعفی ہوجائیں۔

دنیا بھر میں ضمیر کے قیدی تو سیکڑوں پائے گئے اور انھیں جیلوں کی ہوا کھانی پڑی کیونکہ انھوں نے وہی کچھ کیا جو ان کا ضمیر کہتا تھا، ان کے پاس ضمیر موجود تھا جس نے ان سے جو چاہا کہلوایا اور لکھوایا جس کے نتیجے میں وہ سرکاری گرفت میں آئے اور بعد میں ضمیر کے قیدی کہلائے۔

ہر شخص ضمیر کے مطابق ہی کسی چیزکی حمایت یا مخالفت کرتا ہے اور اپنے موقف پر ڈٹا رہتا ہے۔ ایسے ضمیر والوں کے موقف میں اصول کم اور سیاست یا مفاد زیادہ ہوتا ہے۔ اصول والے اپنے موقف کے مطابق کسی چیزکی حمایت یا مخالفت کرتے ہیں اور کسی نفع نقصان کی پروا کیے بغیر اپنے موقف پر ڈٹے رہتے ہیں۔ ان سارے معاملات میں ضمیرکا ہونا ضروری ہے مگر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا ضمیر ہی مرگیا ہے جو کبھی نہ کبھی تو جاگے گا اور جاگے گا تو حقائق آشکار ہوں گے۔

سابق وزیر اعظم بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے والے جج بھی تقسیم ہوگئے تھے۔ اکثریت نے سزا برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور چند نے انھیں بری کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔ وہ اپنے فیصلے پر ہمیشہ قائم رہے اور بھٹو کو پھانسی دینے والے بعض ججوں نے فیصلے پر عمل ہو جانے کے بعد کہا تھا کہ انھوں نے دباؤ میں فیصلہ دیا تھا ۔ اس بات کا اقرار انھوں نے اپنے ضمیر پر بوجھ بڑھ جانے کے بعد اظہار ملامت کے طور پر ہی دیا ہوگا ، مگر بعد میں اقرار سے ان کی ذاتی شہرت تو ضرور متاثر ہوئی مگر جس کے خلاف ان کا فیصلہ دباؤ کے تحت ہوا وہ تو سزا پا گیا اور بعد میں ضمیر پر بوجھ کے اعتراف کا ملزم کو فائدہ نہیں ہوا مگر بعد میں اعتراف کرنے والے کو قانون نے کوئی سزا نہیں دی تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہوتی۔ ضمیر پر بوجھ کی بات کی جائے تو ماضی کے غیر مسلم ظالم و جابر حکمرانوں نے اپنے اقتدار میں ہزاروں بے گناہ قتل کرائے۔ دنیا بھر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم رکھا مگر مرنے تک وہ اپنے اقدام پر شرمندہ ہوئے نہ کبھی ان کا ضمیر جاگا شاید ضمیر ہوتا تو جاگتا۔

اپنے اقتدار کے لیے ہزاروں بے گناہوں کو مروا دینے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، جس کی ایک مثال شام ہے جہاں صدرکو ہٹانے کے لیے امریکا برسوں سے سرگرم ہے مگر ایک دوسری بڑی طاقت ایسا نہیں چاہتی جس کے نتیجے میں شامی صدر کا اقتدار تو محفوظ ہے مگر ان کے اقتدار کے تحفظ میں شام کئی سال سے جنگ کی صورتحال اور تباہی کا شکار ہے اور ہزاروں بے گناہ شامی صدر کے اقتدار کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ امریکا اور روس تو ایک دوسرے کی مخالفت میں اپنی پالیسی پر عمل پیرا ہیں مگر شامی صدر کے ضمیر پر بے گناہوں کی ہلاکتوں کا کوئی بوجھ نہیں کہ خود مستعفی ہوکر اپنے ہم وطنوں پر ہی رحم کرلیں۔ یہ صرف شام نہیں بہت سے مسلم اور غیر مسلم ملکوں میں ہو رہا ہے مگر کسی حکمران کا ضمیر نہیں جاگ رہا جن کے ملکوں میں ہزاروں افراد بے گناہ مارے جاچکے تو دو درجن افراد کی ہلاکت پر شیخ رشید احمد کے ضمیر پر کیوں بوجھ پڑے گا کہ وہ مستعفی ہوں۔ شیخ رشید نے اپنی آنکھوں پر سیاہ بڑا چشمہ چڑھا کر برملا کہا کہ جب ان کے ضمیر پر بوجھ محسوس ہوا تو وہ وزارت چھوڑ دیں گے۔

شکر ہے کہ شیخ رشید نے حادثے کی ذمے داری قبول کرلی ورنہ وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہلاکتوں کے حیدرآباد اور رحیم یار خان کے دونوں حادثے انسانی غلطی تھے جس کے ذمے دار ڈرائیور تھے میں نے ٹرین نہیں چلائی تھی ٹرین سے ٹرین ٹکرانا وزیر کا نہیں متعلقہ ڈرائیوروں کی غلطی تھی۔ بھٹو حکومت میں غلام مصطفیٰ جتوئی وفاقی وزیر مواصلات تھے اور ایک بڑا ٹرین حادثہ ہوا تھا جس پر غلام مصطفیٰ جتوئی نے ذمے داری قبول کرکے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وزیر اعظم بھٹو نے اس بنیاد پر استعفیٰ قبول نہیں کیا تھا کہ حادثے میں غلطی وزیر مواصلات غلام مصطفیٰ جتوئی کی نہیں تھی۔

شیخ رشید نے جس ضمیر پر بوجھ کی بات کی ہے وہ وہی ضمیر ہے جو نواز شریف کی دوسری حکومت میں پہلے مرحلے میں وزیر نہ بنائے جانے پر نہیں جاگا تھا۔ نواز شریف نے پہلے مرحلے میں شیخ رشید اور اعجاز الحق کو وزیر نہیں بنایا تھا حالانکہ اعجاز الحق نواز شریف کے اس محسن جنرل ضیا الحق کے صاحبزادے تھے جنھوں نے نہ صرف نواز شریف کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنایا تھا بلکہ جنرل ضیا نے نواز شریف کو اپنی زندگی کی بھی دعا دی تھی۔ اس لیے پہلے مرحلے میں وزیر بنایا جانا اعجاز الحق کا حق تھا مگر نواز شریف نے انھیں نظرانداز کیا اور دوسرے مرحلے کے لیے جب اعجاز الحق اور شیخ رشید کو حلف اٹھانے کے لیے مدعو کیا تو شیخ رشید جھٹ جاکر وزیر بن گئے تھے مگر اعجاز الحق نے کابینہ میں شامل ہونے سے انکار کردیا تھا۔

شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ کی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ پی ٹی آئی کی وجہ سے الیکشن جیتے اور وزارت کے طلبگار تھے جب کہ ان کے متعلق عمران خان کہہ چکے تھے کہ شیخ رشید کو تو میں اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں۔ اسی خدشے کے باعث انھوں نے کہا تھا کہ اگر وزیر اعظم مجھے دریا کنارے بھی لہریں گننے پر لگا دیں گے تو میں یہ ذمے داری بھی قبول کرلوں گا۔

شیخ رشید کو وفاقی وزیر ریلوے بنائے جانے کے بعد توقع تھی کہ اپنے سابقہ تجربے کی وجہ سے وہ ریلوے کی بہتری پر توجہ دیں گے مگر انھوں نے وزارت ملنے کے بعد اپنے محکمے کی کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے زیادہ توجہ سیاست پر دی اور کوئی روز ایسا نہیں گزرتا جس میں وہ اپنے سابق محسن شریف فیملی پر نہ برستے ہوں اور نئی نئی پیشگوئی نہ کرتے ہوں۔ نواز حکومت میں شیخ رشید نے کہا تھا کہ اسحق ڈار اگر ڈالر ایک سو روپے پر لے آئے تو قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دوں گا مگر انھوں نے نہیں دیا۔

رحیم یار خان حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر شیخ رشید سے استعفے کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا مگر ہر حادثے پر خواجہ سعد رفیق سے استعفیٰ مانگنے والوں نے شیخ رشید سے مستعفی ہونے کا نہیں کہا کہ ان کے ضمیر پر بوجھ پڑتا۔

شیخ رشید پرانے سیاستدان ہیں اور سیاست کے باعث ہی حکومتوں میں شامل ہوتے رہے اور دس سال بعد پھر وزیر بنے ہیں تو انھیں اب اپنا زیادہ وقت اپنی وزارت کو دینا چاہیے جہاں سوا لاکھ سے زائد ملازمین ہیں۔ جہاں اب کسی تیسری انسانی غلطی کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ریلوے مزید مالی بوجھ کی متحمل ہوسکتی ہے اس لیے اب محکمہ جاتی کارکردگی پر توجہ دی جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here