تاریخ کے صفحات حکمرانوں کے عروج و زوال کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں لیکن جب یہ حکمران طاقت کے نشے میںچُور اور مخموُر ہوتے ہیں تو تاج کے بعد تختہ کا منظر ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آتا اور بقول یاس یگانہ چنگیزی:

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا

خُدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا

پاکستان کے تین بار وزیر ِ اعظم کے منصب پر فائز رہنے والے میاں محمد نواز شریف کو اس وقت سزا یافتہ ہونے کے باوجود بوجہ جان لیوا بیماری انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وزیر ِ اعظم عمران خاں کی حکومت نے بغرضِ علاج لندن جا کر علاج کرانے کی سہولت دی ہے۔ ان کو 5 ہفتے کے لیے دی گئی یہ عدالتی مدت ختم ہونے پر اب انھیں مزید وقت بغرض مکمل علا ج دیا گیا ہے۔

نواز شریف کی تیسری وزارت ِ عظمیٰ کی ٹرم بینظیر بھٹو کے خاوند آصف علی زرداری کی پانچ سال کی صدارتی مدت ختم ہونے پر شروع ہوئی، جس کے آخری سال میں ان پر کرپشن کا مقدمہ بنا اور اس میں فُل کورٹ نے اسے سات سال قید کی سزا دی ہے۔

ماضی قریب کے ترتیب وار تین حکمران جنرل پرویز مشرف، آصف علی زرداری اور نواز شریف بقید حیات ہیں۔ حُسنِ اتفاق کہ تینوں شدید بیمار ہیں ۔ ایک دُبئی میں، دُوسراکراچی کے اسپتال میں اور تیسرا لندن میں زیر ِ علاج ہے۔ پہلا اور تیسرا سزا یافتہ ہے۔ دوسرا ملزم ہے اور اس کے ٹرائل کی باری آنے والی ہے۔

جنرل پرویز مشرف جنھیں نواز شریف نے کئی جنرلز کی Supercession  کے بعد آرمی چیف بنایا تھا۔ نوازشریف کی غلطی کے نتیجہ میں1999 میں نواز شریف کو گرفتار کرنے کے بعد اقتدار میں آئے اور 2008 تک کرسی صدارت پر براجمان رہے۔ ان کے خلاف آئین توڑنے اور غداری کا مقدمہ بنا ۔2016میں خصوصی عدالت نے انھیں بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تو وہ بیرون ِ ملک چلے گئے۔ آخری بار سپریم کورٹ نے انھیں اپریل 2019میں بیان ریکارڈ کرانے کا حکم جاری کیا۔ اس سے قبل انھیں متعدد بار طلب کیا گیا لیکن وہ بیماری کا بہانہ کرتے رہے۔

اب عدالت نے بوجہ عدم حاضری حق ِ دفاع ختم کر دیا اور تین ججز پر مشتمل خصوصی عدالت نے 17دسمبر2019کو مختصر فیصلہ اور 19 دسمبر2019کو تفصیلی فیصلہ سُنا دیا ۔ ان پر پانچ جرم تھے۔ آئین توڑنا، ججز کو نظر بند کرنا،آئین میں غیر قانونی ترمیم کرنا، بحیثیت آرمی چیف آئین معطل کرنا اور غیر قانونی PCO  جاری کرنا۔ یہ پانچوں جُرم ثابت ہونے پر دو ججز نے انھیں پانچ بار سزائے موت کا حکم سنایا۔

تیسرے جج نے اختلاف کرتے ہوئے بری کیا۔ ایک بات البتہ درست ہے کہ بوقت فیصلہ پرویز مشرف شدید بیمار دُبئی کے اسپتال میں داخل تھے اور اب بھی ہیں۔ اس فیصلے میں ایک جج نے اپنے حکم میں لکھا کہ مشرف کو اسلام آباد کے D چوک میں پھانسی کے بعد 3 دن تک لٹکایا جائے اور اگر وہ پھانسی سے پہلے فوت ہو جائے تو لاش کو گھسیٹ کر D چوک لا کر لٹکایا جائے۔ نواز شریف اور پرویز مشرف دونوں کے عروج کے بعد اب عدالتی سزا یابی سبق آموز زوال کی سچی کہانی ہے۔

عمران خاں کے پرویز مشرف کے ساتھ بہت اچھے تعلقات رہے ہیں۔ کینسر علاج کے پہلے اسپتال شوکت خانم اسپتال کے لیے فنڈ ریزنگ اکٹھ ہوتے رہتے تھے۔ ایک بار جب اس مقصد سے اسپتال میں اہتمام ہوا تو دلدار پرویز بھٹی نے جس طرح دلچسپ انداز میں عطیات وصول کیے، یاد گار رہیں گے۔ میری پرویز مشرف سے ملاقات اسی اسپتال کے لان میں ایک ایسی ہی تقریب میں ہوئی تھی ۔

اس موقع پر صدر مشرف، ان کی والدہ اور بیگم کے علاوہ گورنر پنجاب خالد مقبول نے بھی عطیات دیے۔ اس فنکشن کی ایک یادگار تصویر بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ اسپتال فنکشنل ہونے سے چند روز قبل ایک آسٹریلین ٹیلیویژن ٹیم اسپتال وزٹ کرنے آئی جسے عمران خاں خود لے کر وہاں گئے۔

پانچ چھ افراد کے اس گروپ میں میَں بھی شامل تھا اور عمران سے وہ میری پہلی ملاقات تھی۔ اس کے بعد مجھے متعدد بار خالد مقبول صاحب کے ہمراہ لاہور سے صبح روانہ ہو کر پنجاب کے کسی شہر کا وزٹ کرنے وہاں مرکزی حکومت کے محکموں کا دورہ کر کے اسی روز شام کو لاہور واپسی کا موقع ملا۔ ان دنوں میں گورنر صاحب کی وزٹس اور محکموں کی انسپکشن کا ذکر اپنے کالم میں بھی کرتا رہا۔ ہماری بیشتر اضلاع کی وزٹس چھوٹے ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہوتے تھے ۔ ایک یادگار وزٹ 16 جولائی 2007 کو بذریعہ موٹر کار ساہیوال کی تھی واپسی ہوئی تو ڈرائیورکے ساتھ ملٹری سیکریٹری اور پچھلی سیٹوں پر گورنر صاحب اور میں بیٹھے تھے۔

ساہیوال کے چھ سات محکموں کی انسپکشن کی باتیں ہوتی رہیں پھر اچانک انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ ’’پرویز مشرف صاحب نے 8 سالہ دور ِ حکومت میں بہترین خدمات انجام دیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اگر انھیں اس کے بعد بھی حکمرانی کی ایک ٹرم مل جائے تو کیا یہ ان کا حق نہیں بنتا‘‘۔ میں نے جواب دیا کہ ’’سر! حکمرانی ایسا نشہ ہے جو اکثر قبر تک اُترنے کا نام نہیں لیتا اور آپ تاریخ کے اوراق اُٹھا کر دیکھیں تو اقتدار سے چمٹے رہنے والوں کا حشر سبق آموز ملے گا۔

آپ ان کے بہت قریبی ساتھی ہیں۔ بہتر ہو گا کہ مشرف صاحب ایک فیئر اور فری الیکشن کرا کے اقتدار جیتنے والے کو سونپ کر قوم کو TV  پر ایڈریس کر کے با عزت طریقے سے اقتدار کو خدا حافظ کہہ دیں ‘‘۔ میرا مشورہ سُن کر انھوں نے کوئی رد ِ عمل نہ دیا۔ وہ چُپ رہے۔ 16جولائی کی اس گفتگو پر میرا کالم 20 جولائی کو شایع ہوا جس میں خلوص ِ نیت سے دیے گئے مشورے کا تفصیلاً اظہار تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here