قسط نمبر (1)

پاکستان 14 اگست 1947 ء کو آزاد ہوا تو 15اگست1947 کو امریکا نے پا کستان کے پہلے دارالحکومت کراچی میںاپنا سفارت خانہ کھولا جب کہ پاکستان 30 ستمبر1947 ء کو اقوام متحدہ کا رکن بنا اور پھر امریکا نے باقاعدہ طور پر پاکستا ن کو برطانیہ اور کینیڈا کے ساتھ 20 اکتوبر 1947ء کو تسلیم کیا، یہ وہ زمانہ تھا جب دوسری جنگ عظیم کی تباہیوں کے بعد دنیا نئے انداز سے تشکیل پا رہی تھی، دوسری جنگ عظیم کا اختتام جاپان کے شہروں ناگا ساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بموں کے استعمال کے بعد ہوا تھا۔

یہ تاریخ کا وہ دوراہا تھا جہاں پر ایک جانب 1917ء میں مارکسی اشتراکی نظریات پر سوویت یونین میں رونما ہونے والا انقلاب اب مشرقی یورپ کے ممالک تک پھیل چکا تھا اور ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک میں داخل ہو رہا تھا، دوسری جانب اب جابرانہ نوآبادیاتی نظام دنیا سے ختم ہو رہا تھا، پہلی جنگ عظیم میں لیگ آف نیشنز کی ناکامی کی بنیاد پر تلخ حقائق کو تسلیم کرتے ہو ئے دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد اقوام متحدہ کا ادارہ اس کی جنرل اسمبلی اور سکیورٹی کونسل کے ساتھ تشکیل دیا گیا تھا، سکیورٹی کونسل میں دنیا کے پانچ بڑے ملکوں کو دنیا کے ہر فیصلے کو رد کرنے کا اختیار’’ ویٹو‘‘ دیا گیا تھا، اور در پردہ سیاسی نو آبادیات اور ملکوں کوآزادی دیتے وقت اِن بڑی قوتوں نے اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک نیا سیاسی اقتصادی نظا م تشکیل دیا تھا۔

نوآبادیاتی نظام سے آزاد ہونے والے ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعات پیدا کئے گئے تھے اور قرضوں کے باعث یہ ترقی پذیر ممالک اِن بڑے ملکوں کے معاشی اقتصادی جال میں گرفتار ہو رہے تھے مگر دنیا کے 24فیصد رقبے اور دنیا کی 25فیصد آبادی پر مشتمل بشمول برصغیر برطانوی نوآبادیات کے لیے بھی جال تو یہی تھا لیکن فرانسیسی اطالوی ولندیز ی اور دیگر مغربی نوآبادتی قوتوں کے مقا بلے میں صورتحال مختلف تھی کہ پاکستان، بھارت سمیت ان میںسے بیشتر غلام ممالک مسلح جدوجہد کی بجائے سسٹیمیٹک طریقے یعنی ایک خاص انداز کے نظام کے تحت آزاد ہوئے تھے۔

جس میں انگریز دور ہی میں تشکیل پانے والی انتظا میہ ، پارلیمنٹ ’’ مقننہ‘‘، عدلیہ اور فوج شامل تھی خصوصاً پاکستان اور بھارت کی صورتحال تو بہت ہی دلچسپ تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے صرف ساڑھے تین مہینے بعد دسمبر 1945اور جنوری 1946ء میں 1935 کے قانونِ ہند کے تحت متحدہ ہند وستان کے آخری انتخابات جداگانہ بنیادوں پر ہوئے تھے یعنی ہندوستان میں صوبائی اسمبلیوں اور مرکزی اسمبلی کی نشستیں مسلمان اور ہندو آبادی کے تناسب سے طے کی گئیں تھیں، البتہ یہ ضرور تھا کہ کانگریس اور مسلم لیگ ہندو اور مسلم نشستوں پر اپنے اپنے ہندو اور مسلمان امیدوارکھڑی کر سکتی تھیں۔

یوں ان انتخابات میں مسلم لیگ نے مرکزی اسمبلی کی30 کی30 مسلم نشستیں حاصل کیں اور صوبائی اسمبلیوں کی 90% مسلم نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اِن انتخابات کے بعد متحدہ ہندوستان میں عبوری حکومت قائم ہوئی جس کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو تھے جبکہ دیگر مرکزی وزرا کے علاوہ لیاقت علی خان وزیر خزانہ تھے اور وزریر داخلہ سردار ولب بھائی پاٹیل تھے، نہرو کابینہ میں کوئی بھی وزیر خارجہ نہیں تھا، 3 جون 1947 ء کے اعلان آزادی کے بعد برطانیہ کی پارلیمنٹ نے 18 جولائی 1947ء قانون آزادیِ ہند کے عنوان سے 1935 ء کے قانون ہند جو ایک آئین کی حیثیت رکھتا تھا اُس میں یہ ترمیم کی تھی، جس میں دیگر نکات کے علاوہ آزادی کے بعد ایک سال تک پاکستان اور بھارت پر کچھ شرائط عائدکی گئی تھیں۔

نمبر1۔14 اگست، 15 اگست1947 ء کے بعد سے ایک سال تک دونوں ملکوں کی حیثیت ڈومینین سٹیٹ کی ہوگی اور یہ دونوں ممالک 1935 ء کے قانونِ ہند کو فوری اور ضروری ترامیم کے ساتھ ایک سال تک نافذ العمل رکھیں گے، اور یہ ضروری یا فوری نوعیت کی ترامیم بھارت اور پاکستان کی پارلیمنٹ کے بجائے دونوں ملکوںکے گورنر جنرل کریں گے۔

نمبر2 ۔دونوں ملک اگرچاہیں تو ایک سال بعد اپنا نیا آئین بنا لیں یا 1935 ء کے قانون کو ہی نافذالعمل رکھیں یا اس میں ضرورت کے مطابق ترامیم کرکے نافذالعمل رکھیں۔

بھارت نے آزادی کے بعد اپنا آئین بنا لیا۔ پاکستان کا پہلا پارلیمانی آئین 1956 ء میں بنا، یوں اُس وقت تک 1935 کے قانون کے مطابق برطانیہ کی بادشاہت علامتی طور پر ہماری سربراہ مملکت رہی، یعنی برطانیہ کی ملکہ الزبتھ ہماری بھی آئینی سربراہ تھی۔ لیکن چونکہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں فاتح ہونے کے با وجود برطانیہ بہت کمزور ہو چکا تھا اور بہت زیادہ اپنے اتحادی امریکا پر انحصار کر رہا تھا۔

اس لیے یہ موقع ایسا تھا کہ باوجود پہلے سال کی آئینی پابندی اور پاکستانی افواج کے کمانڈر انچیف جنرل فرینک میسوری اور جنرل ڈیگلس گریسی کی مخالفت کے قائد اعظم نے جنگ آزادیِ کشمیر میں کشمیری مجاہدین کے ساتھ افواج پاکستان اور قبائلی مجاہدین کے ساتھ بھرپور کاروائی کی اور آدھا کشمیر آزاد کر وا لیا۔ دوسری جانب نہرو نے بھی مسلمان نوابیں کی ریاستوں حیدر آباد دکن، جوناگڑھ اور بھوپال وغیرہ پر قبضہ کر لیا۔ برصغیر میں مغلیہ حکومت 1707 ء میں اورنگ زیب عالمگیر کے بعد زوال پذیر ہوئی اور بہت سی ریاستیں آزاد اور خود مختار ہو نے لگیں۔

البتہ یہ تمام ریاستیں علامتی طور پر ہی سہی مگر دہلی کے تخت پر بیٹھے مغل بادشاہ کو پورے ہندوستان کا بادشاہ تسلیم کرتی تھیں، اور یہ سلسلہ 1857 ء کی جنگ آزادی تک قائم رہا جس میں شکست کے بعد انگریزوں نے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو تخت وتاج سے محروم کر کے رنگون میں قید کر دیا، مگر انگریزوں نے شروع ہی سے پرانے جاگیردارانہ نظام کو اپنی سیاسی ضروریات کے تحت تبدیل کر کے نافذ رکھا ، یوں تاج برطانیہ کی ہندوستان میں آزادی تک انگریز سرکار کی ماتحتی میں چھوٹی بڑی تقریباً 540 ریاستیں تھیں اور18 جولائی 1947 کو برطانوی پارلیمنٹ سے منظور ہونے والی 1935 کے قانون ہند کی ترامیم میں یہ بھی تھا کہ اِن ریاستوں کے راجے مہاراجے، خوانین اور نوابین برصغیر کی تقسیم اور آزادی کے بعد اپنے عوام کی مرضی، ریاست کی سرحدی قربت وغیرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان یا ہندوستان میں شمولیت کا فیصلہ کریں گے۔

حیدر آباد دکن اُس وقت دنیا کی سب سے امیر ریاست تھی، جس کے آخری حکمران نظام میرعثمان علی خان تھے جو اُس وقت دنیا کے سب سے امیر آدمی تھے، ریاست حیدر آباد 1724 ء میں قائم ہوئی تھی اور 1798 ء میں ریاست حیدرآباد نے انگریز ی اقتدار کو قبول کیا، اس ریاست کا رقبہ 215339 مربع کلومیٹر اور آبادی 1941 کی مردم شماری کے مطابق 16340000 نفوس پر مشتمل تھی اور یہاں مسلمانوں کا تناسب گیارہ فیصد سے زیادہ تھا، نظام حیدر آباد نے ریاست کو آزاد رکھنے کا فیصلہ کیا تھا مگر بھارت نے آزادی کے فوراً بعد حیدرآباد پر میجر جنرل جے این چوہدری کی سربراہی میں ایک فوج بھیج کر قبضہ لیا۔

یہی جنرل جے این چوہدری اس کے بعد بھارتی فوج کے آرمی چیف ہوئے، ریاست بھوپال جس سے پاکستان کے عظیم سائنس دان ڈاکٹر قدیر خان کا تعلق ہے اس ریاست پر بھی 1948 میں بھارت نے بزور قوت قبضہ کیا، اس کے مسلمان نواب پاکستان میں شامل ہونا چاہتے تھے اس کا رقبہ 17801 مربع کلومیٹر اور آبادی 1921کے مطابق 730000 تھی، البتہ آبادی کی اکثریت ہندو تھی، ایک اور بڑی ریاست جس کے نواب مسلمان تھے وہ جونا گڑھ کی تھی جس کا رقبہ 3337 مربع کلومیٹر اور آبادی1941 ء کے مطابق 465493 تھی لیکن اکثریت ہندو تھی اس کے نواب محمد مہتاب خان جی نے بھی پاکستان کے ساتھ الحا ق کا فیصلہ کیا تھا مگر 1948 ء ہی میں اس پر بھی بھارت نے بزور طاقت قبضہ کر لیا۔

14 اگست1947 ء تک انگریزی دورِ حکومت میں ریاست جموں وکشمیر کا مجموعی رقبہ 135942 مربع کلومیٹر تھا، جس میں صوبہ جموں کا رقبہ 19921 مربع کلومیٹر، صوبہ کشمیر کا رقبہ 13742 مربع کلومیٹر اور صوبہ لداخ کا رقبہ 102285 مربع کلومیٹر تھا اور1941 کی مردم شماری کے مطابق ریاست کی کل آبادی 4021616 تھی یہاں آبادی کی اکثریت نہ صرف مسلمان ہے بلکہ ریاست جموں و کشمیر کو دنیا سے ملانے والے چھ کے چھ راستے پاکستانی حدود سے آگے جاتے ہیں اور عوام کی اکثریت آج تک بھی پاکستان ہی کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، مگر انگریز ہند و گٹھ جوڑ پہلے ہی سے تھا۔

یہی وجہ تھی کہ پہلے مرحلے میں ریڈ کلف ایوارڈ میں پنجاب کی تقسیم میں مشرقی پنجاب کے اضلاع گروداسپور، فیروز پور اور زیرہ ناانصافی کرتے ہو ئے بھارت کو دے دئیے گئے اور پھر ہندوستان میں آزادی سے قبل پنڈت جواہر لال نہرو کی عبوری حکومت کے وزیر داخلہ سردار ولب بھائی پاٹیل اور ماسٹر تارا سنگھ کے مسلح جتھوں نے اِن مسلم اکثریت کے علاقوں میں قتل عام کرکے لاکھوں مسلمانوں کو پاکستانی علاقوں میں دھکیل دیا، اس سے ایک طرف تو مادھوپور، فیروز پور ہیڈ ورکس پر پانی کی تقسیم کے اعتبار سے قبضہ کر لیا گیا تو ساتھ ہی پٹھان کوٹ سے ایک مصنوعی زمینی راستہ جموں وکشمیر کو فراہم کردیا گیا، اور پھر آزادی کے فوراً بعد نہرو نے ڈرا دھمکا کر اور دباؤ ڈال کر ریاست جموں وکشمیر کے مہاراجہ ہر ی سنگھ سے مسلم اکثریت کی ریاست کا الحاق بھارت سے کرا لیا اور اس پر پاکستان کی جانب سے کشمیری حریت پسندوں کی حمایت کی گئی، اُس وقت بھارت کے گورنر جنرل لارڈ ماونٹ بیٹن اور وزیر اعظم پنڈت نہرو تھے، جب کہ انگریز جنرل روب لاکہارت Rob Lockharat آرمی چیف جبکہ دیگر فوجی قیادت میں جنرل راے بوچرGen ray Bucher ،ائیر مارشل تھامس لیفٹیننٹ جنرل ڈولے رسل، لیفٹیننٹ جنرل کے ایم کریپا، لیفٹیننٹ جنرل شری ناگیش اور بریگیڈیر محمد عثمان شامل تھے۔ اکتوبر 1947 ء میں بھارت نے کشمیر کی حکومت کی مدد کے پردے میں کشمیر پر تسلط قائم کرنے کے لیے اپنی فوج وہاں اُتار دی۔

پاکستان کی فوج کے سربراہ اُس وقت بھارتی فوج کے سربراہ کی طرح انگریز جنرل فرینک میسوری تھے، دوسرے انگریز جنرل ڈیگلس گریسی تھے، باقی اعلیٰ فوجی افسران میں میجر جنرل خورشید انور ،کرنل اسلم خان، کرنل اکبر خان،کرنل شیر خان اور میجر ولیم براؤن شامل تھے۔ واضح رہے کہ انگریز جنرل پاکستان کی جانب سے جنگ کے خلا ف تھے، مگر قائد اعظم کی اسٹرٹیجی زبردست تھی کہ کشمیری مجاہدین کے ساتھ پاکستانی قبائلی لشکر تھے، جنگ میں ریاست جموں وکشمیر گلگت، بلتستان کے جو علاقے آزاد ہو رہے تھے ان کے جوان بھی شامل ہو رہے تھے، مسلم لیگ نیشنل گارڈکے مسلح دستے تھے۔

سوات آرمی تھی، فرقان فورس، گلگت اسکاؤٹس اور فرنٹیئر فورس کو شامل کیا گیا تھا۔ اس جنگ میں مجاہدین، شہدا اور غازیوں نے شجاعت و بہادری کی داستانیں رقم کیں جو تا قیامت یاد رہیں گی ۔ انگریز نے کانگریس سے مل کر پہلے یہ کوشش کی تھی کہ بھارت کی طرح پاکستان کا گورنر جنرل بھی لارڈ ماونٹ بیٹن ہو مگر اِس کو قائد اعظم نے تسلیم نہیں کیا لیکن برطانوی حکومت نے دونوں ملکوں کی فوجوں کا ایک سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل کلاڈ آکن لیک کو بنایا تھا جس کا حکم ماننا دونوں ملکوں کے آرمی چیفس پر لازم تھا۔

قائداعظم نے بہت جرأت کے ساتھ پہلی بھارت پاکستان جنگ لڑی، مسلمان فوجی افسران نے اُن کا حکم مانا، مجاہدین اور قبائلی لشکر نے بہت بہادری سے جنگ کی اور آزادکشمیر،گلگت بلتستان کے علاقے آزاد کرا لیے، جنگ کے آغاز پر مہاراجہ کی ریاستی فوج نے خصوصاً جموں کے علاقے میں ایک سازش کے تحت مسلمان کشمیریوںکا قتل عام کروایا کیونکہ کشمیر میں مسلمانوں کا تناسب90% اور جموں میں 60% تھا۔ راجہ ہری سنگھ کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کو آزاد کشمیر کے علاقوں تک لے جائیں گے اس مقصد کے لیے بڑے فوجی ٹرک تیار کئے گئے جو جموں کے میدان میں جمع ہونے والے مسلمانوں کو وہاں سے سینکڑ وں کی تعداد میں روزانہ اٹھاتے اور چند میل دور جنگل میں چشمے کے قریب فائرنگ کرکے ہلاک کر دیتے جب بریگیڈ ئیر عثمان وہاں اچانک پہنچے تو یہ قتل عام اُنہوں نے دیکھ لیا اور غالباً یہی وجہ تھی کہ اس جنگ میں وہ ہلاک ہوئے اور بھارتی حکومت نے اُنہیں وفات کے بعد دوسرا سب سے بڑا قومی فوجی ایوارڈ ’’مہا ویر چکرا‘‘ دیا۔

یہ پہلی پاک بھارت جنگ کشمیر پر 22 اکتوبر 1947 سے 5 جنوری 1949 تک تقریباٍ ایک سال دو ماہ پندرہ دن جاری رہی اور پھر بھارتی وزیر اعظم نہرو کے اقوام متحدہ جانے اور کشمیریوں کی مرضی کے مطابق رائے شماری کروانے کی قرارداد کی منظوری اور مقبوضہ بھارتی جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان سیز فائر لائن طے ہونے پر یہ جنگ بند ہوئی۔ اس جنگ میںہی انگریز سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل کے حکم پر پاکستان میں انگریز جنرل فرینک میسوری کی جگہ انگر یزجنرل ڈگلس گریسی کو آرمی چیف بنا دیا گیا اور بھارت میں بھی آرمی چیف جنرل روب لاک ہارٹ کی جگہ دوسرے انگریز جنرل باؤچر کو آرمی چیف مقرر کیا۔

سیزفائر لائن کے لیے اقوام متحدہ کا ثالثی کمیشن ،یو این کمیشن فار انڈیا اینڈ پاکستان تشکیل دیا گیا جس میں پاکستان کی جانب سے میجر جنرل ڈبلیو جے، کاو تھورن بھارت کی طرف سے لیفٹیننٹ جنرل شری ناگیش تھے اور اقوام متحدہ کے دو ممبران میں ہیرنانڈوسامپر اور ایم ڈیلووئی شامل تھے۔ معاہدہ انگریزی میں تحریر کیا گیا۔ اس معاہدے پر کراچی میں 27 جولائی 1949 کو دستخط ہوئے۔

جنگ بندی لائن کے بعد ریاست جموں وکشمیر کی صورتحال یوں ہوئی کہ مقبوضہ جموں 19921 مربع کلو میٹر، بھارتی مقبوضہ کشمیر 11093 مربع کلومیٹر، بھارتی مقبوضہ لداخ15901 مربع کلو میٹر، پاکستان میں آزادکشمیر 6669 مربع کلو میٹر، گلگت بلتستان 47983 مربع کلو میٹر اور 1962 کی بھارت چین جنگ کے بعد چین کے پاس لداخ کا 14983 مربع کلو میٹر کا علاقہ آگیا جس میں بھارت چین جنگ کے فوراً بعد پاکستان کی جانب سے لداخ میں دیا گیا 3006 مربع کلو میٹر کا علاقہ بھی شامل ہے۔

اس علاقے پر چین کا دعویٰ بھی تھا اور پھر جب بھٹو وزیر خارجہ بنے تو انہوں نے چین سے تعلقات بہتر کرنے اور اس علاقے میں بھارت کے مقابل پاک چین تعاون کو زیادہ بہتر کرنے کے لیے اقدامات کئے اور یوں صدر ایوب خان نے لداخ میں یہ علاقہ چین کو دیا۔ افسوس ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح ٹی بی کے مرض کے بہت بڑھ جانے کے سبب جولائی 1948 کے پہلے ہفتے میں شدید بیمار ہو کر زیارت آگئے جہاں گیارہ ستمبر 1948 ء کی صبح تک اُنہوں نے اپنی زندگی کے آخری دو ماہ دس دن گزارے، اس دوران وہ کشمیر کے لیے تڑپتے رہے، وہ چاہتے تھے کہ تیزرفتاری سے مسلح کاروائی کی جائے اور جلد سے جلد پورے کشمیر کو آزاد کر وا لیا جائے، اس میں اُن کی سیاسی بصیرت کا بڑا دخل تھا۔ 1948-49 تک اقوام متحدہ کے رکن ملکوں کی تعداد 59 تھی جن میں سے نوے فیصد اُس وقت تک بے اثر تھے۔

وہ فلسطین میں اسرائیل کے قیام کے مخالف تھے، دنیا کی نئی تشکیل میں وہ یہ جانتے تھے کہ فوری اور تیز رفتار جنگ سے پورا کشمیر آزاد ہو سکتا ہے، اگر وہ متحرک زندگی کے ساتھ صرف 5 جنوری 1949 ء تک زندہ رہ جاتے تو پورا کشمیر آزاد ہوتا، قائد اعظم کی وفات کے بعد پاکستان عملی طور پر کابینہ میں مو جود دو اہم بیوروکریٹ ملک غلام محمد جو انگریز دورِ حکومت میں انڈین سول سروس میں ریلوے کے چارٹر اکاونٹ کے شعبے میں آئے تھے۔ 1946 ء کی نہرو کی عبوری حکومت میں مسلم لیگ کی جانب سے لیاقت علی وزیر خزانہ ہوئے تو غلام محمد سیکرٹری خزانہ ہوئے اور آزادی کے بعد وزیر اعظم لیاقت علی کی کابینہ میں ملک کے پہلے وزیر خزانہ ہوگئے۔

اور اسکندر مرزا جو سی آئی ای۔ او ایس ایس۔او بی ای تھے سینڈہرسٹ ملٹری کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد فوج کے جنرل بھی ہوئے، پھر انڈین پولیٹیکل سروس میں آئے اور زیادہ عرصے تک پولیٹیکل ایجنٹ رہے، پاکستان کے پہلے سیکرٹری دفاع ہوئے، اس حیثیت میں انہوں نے پہلی پاک بھارت جنگ میں کردار ادا کیا، پھر مشرقی پاکستان کے گورنر ہوئے اور پھر ملک غلام محمد کے بعد گورنر جنرل ہوئے اور 1956 ء کے پارلیمانی آئین کے نفاذکے بعد ملک کے پہلے صدر ہوئے۔ اسکندر مرزا کے بیٹے ڈاکٹر ہمایوں مرزا نے اپنی کتاب فرام پلاسی ٹو پاکستان میں اپنے خاندانی شجرہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بنگال کے میر جعفر اُن کے جد امجد تھے اور ساتھ ہی انہوں نے مورخین پر تنقید کی ہے کہ مورخین نے میر جعفر کے کردار کو درست انداز میں پیش نہیں کیا۔ بہرحال اِن دونوں نے ا پنے اپنے طور پر پاکستان کو اور خصوصاً کشمیر کے مقصد کو بہت نقصان پہنچایا۔

1949 میں جنگ بندی کے بعد 3 مئی 1950 ء کو لیاقت علی خان نے امریکا کا دورہ کیا،کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر ٹرومین نے اُن سے ملا قات میں پاکستان میں روس کے خلا ف فوجی اڈا مانگا تو انہوں جواب دیا کہ پاکستان نے آدھا کشمیر امریکی امداد کے بغیر آزاد کروایا ہے، اکتوبر 1951 ء میں لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں شہید کردیا گیا۔

اس کے بعدگورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کو وزیر اعظم بنا کر ملک غلام محمد خود گورنر جنرل ہو گئے اور پھر 1935 ء کے قانون کی شق کو استعمال کرتے ہوئے خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو برخاست کردیا، اس دوران ملک کا آئین نہ بن سکا اور جب 1956 ء میں آئین بنا تو اس کے بعد اسکندر مرزا نے اسے ناکام بنا نے کی سازش کی اور فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان نے 1958 ء میں مارشل لا نافذکر کے 1956 ء کے آئین کو منسوخ کردیا، اُس وقت تک ملک میں عام انتخابات نہ ہو نے کی وجہ سے ایک جانب تو ملک میں نمائندہ حکومت نہیں تھی تو دوسری جانب سیاسی بحران رہا۔

بوگرا فارمولہ کی بنیاد پر بعد میں جب 1956 ء کے آئین کے تحت مشرقی اور مغربی پاکستان کو برابری کے اصول کی بنیاد پر دو صوبے قرار دیا گیا تو یہ بحران مزید بڑھا۔1951 ء کی مردم شماری کے مطابق ملک کی کل آبادی 7 کروڑ 50 لاکھ تھی جس میں سے مشرقی پاکستان کی آبادی4 کروڑ 20 لاکھ تھی اور مغربی پاکستان کی آبادی 3 کروڑ37 لاکھ تھی، اکسٹھ کی مردم شماری کے مطابق کل آبادی 9 کروڑ30 لاکھ تھی جس میں سے مشرقی کی آبادی 5 کروڑ اور مغربی پاکستان کی آبادی 4 کروڑ 28 لاکھ تھی۔ برابری کا یہ بوگرا فارمولہ شاید نیک نیتی پر مبنی تھاکیونکہ محمد علی بوگرا کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا مگر چونکہ آزادی سے قبل عام انتخابات 1945-46 کے موسم سرما میں ہوئے تھے اور یوں ملک کے پہلے عام انتخابات 1951 ء میں ہو جانے چاہیے تھے جو نہ ہو سکے۔

اس لیے بیوروکریسی اور سرکاری اہلکاروں نے اس نظام کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ مغربی پاکستان کو چار کے بجائے ایک صوبہ بنا دینے سے ملازمتوں اور صوبائی حقوق کے لحاظ سے پنجاب کے خلاف سندھ ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو شکایات رہیں تو مشرقی پاکستان کو یہ شکایت تھی کہ آبادی کی اکثریت کے باوجود جمہوری، سیاسی، مالیاتی اورمعاشی حقوق کے مقابلے میںاُنہیں کم دیا جا رہا ہے۔ پھر دوسری جانب ہمارے حکمران چونکہ عوامی سطح پر مقبولیت کھو بیٹھے تھے اس لیے خارجی سطح پر انہیں جن مسائل کا سامنا تھا اس کے لیے 1958 تک اُن کا تمام تر انحصار بیوروکریسی پر رہا اور پاکستان سیٹو سینٹو جیسے معاہدوں کے تحت امریکا اور مغربی یورپ کے مفادات کا نگہبان بن گیا اور سابق سوویت یونین، چین، مشرقی یورپی ممالک یہاں تک کہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک سے اس کے تعلقات بہتر نہیں رہے۔

وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے دور میں پشاور کے نزدیک بڈ بیئر کے مقام پر سوویت یونین کی فضائی جاسوسی کے لیے امریکا کو اڈہ بھی دے دیا گیا جہاں سے بہت زیادہ بلندی پراڑکر روس کی فضائی حدود میں جاسوسی کرنے والے U2 طیارے کو سوویت یونین نے مار گرا یا اور پاکستا ن کو ایوبی دور میں عالمی سطح پر رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن یہ امریکا نواز خارجہ پالیسی اُس وقت پاکستان کی مجبوری بھی تھی اور وہ یہ تھی کہ پاکستان دوقومی نظریے پر قائم ہوا تھا اس لیے نظریاتی طور پر سوویت یونین پاکستان کے خلاف تھا۔ 1949 ء تک جب تک روس نے اپنا کامیاب ایٹمی تجربہ نہیں کیا تھا امریکا، برطانیہ کا رویہ روس کے خلاف بہت جارحانہ تھا مگر پھر بھی افغانستان کی حیثیت بفر زون کی رہی اور افغانستان کی سرحد سے سنٹرل ایشیا کی مسلم اکثریتی ریاستوں میں کو ئی در اندازی نہیں کی گئی لیکن سوویت یونین کے لیے نظریاتی طور پر پاکستان تاریخی اعتبار سے ایک خطرہ تھا۔

پھر 1962 ء تک انڈیا چین تعلقا ت بہت اچھے تھے اور بھارت اور چین میں ہندو چینی بھائی بھائی کا نعرہ گونجتا تھا، اس لیے پاکستان کو اپنے دفاع کے لیے خارجہ پالیسی کو امریکا اور برطانیہ نواز بنانا پڑا جب کہ نہرو نے بھارت میں جمہوریت اور سیکولرازم کی بنیاد پرآئین بنا کر کوشش کی تھی کہ دنیا پر ایک متوازن بھارتی معاشرے کے تصور کو اجاگر کرے ۔

خارجی سطح پر بھارت نے غیر جانبدار ممالک کی تحریک کے تحت دنیا کے بیشتر ایسے ممالک جو کسی معاہدے کے تحت امریکا ، برطانیہ ، سوویت یونین یا ان کے کسی بلاک سے جڑے ہوئے نہیں تھے، اِن کو شامل کیا اور نہرو تقریباً اس کے عالمی سطح پر ہیرو قرار پائے جب کہ سوویت یونین سے اُن کے ذاتی تعلقات 1927 سے اس وقت سے تھے جب انہوں نے اپنے والد اور اُس وقت کے آل انڈیا کانگریس کے صدر موتی لال نہرو کے ساتھ سوویت یونین میں دس سالہ کیمونسٹ انقلاب کے جشن میں شرکت کی تھی۔

اسی طرح چین سے بھی تعلقات چینی رہنماؤں سے اشتراکی انقلاب اور 1949 میں چین کی آزادی سے پہلے کے تھے، اسی طرح برطانیہ کا جھکاؤ 1947 میں ہندوستان کی تقسیم میں بھارت کی طرف تھا اور کشمیر کے مسئلے پر وہ باوجود 18 جولائی 1947 کے قانون ِآزادی تقسیمِ ہند کے بھارت کی طرفداری میں رہا، پھر جہاں تک تعلق امریکا کا ہے توبھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے بہن کو امریکا میں سفیر تعینات کیا انہوں نے اپنی زندگی میں امریکا کے چار سرکاری دورے کئے ، پہلا دورہ سوویت یونین کے دورے سے پہلے 11 اکتوبر1949 ء کو کیا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کی جنگ پر سیز فائر معاہدہ ہو چکا تھا۔

اقوام متحدہ کی قراردادیں تھیں ، سویت یونین ایٹمی قوت بن چکا تھا اور پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے امریکا کا دورہ نہیں کیا تھا۔ نہرو نے امریکا کا دوسرا دورہ 16 دسمبر 1956 میںکیا، جب کچھ دن قبل وہ کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت نیشنل کانفرنس کے شیخ عبداللہ سے ساز باز کر چکے تھے اور ریاست کی حکومت اور انتخابات کی بنیاد پر دنیا کو یہ باور کروانا چاہتے تھے کہ مقبوضہ کشمیر میں مقامی آبادی کو 35A کے تحت بھی تحفظ کے حقوق حاصل ہیں اور یہ سب جمہوری انداز پر ہے۔ یہ دورہ عالمی سیاست کے اعتبار سے بھی اہم تھا کہ مصر میں نہر سوئز کے مسئلے پر برطانیہ، فرانس اور اسرائیل سے مصر کی جنگ سے نئی صورتحال میں بھارت کا کردار مصری رہنما جمال ناصر سے خصوصی دوستی کے لحاظ سے کیسا ہو گا؟ اسی طرح سوویت یونین اور چین کی دوستی جو اسٹالن کے دور تک بہتر تھی وہ 1953 میں اسٹالن کی وفات کے بعد باہمی اختلافات کا شکار ہو رہی تھی اور اِن دو بڑی کیمونسٹ قوتوں کے تضادات بڑھ رہے تھے۔

نہرو نے تیسرا امریکی دورہ 26 ستمبر 1960 کو اور چوتھا اور آخری دورہ امریکا 6 نومبر1961 کو کیا، یہ وہ دور تھا جب کیوبا میزائل بحران اور پھر چین بھارت تعلقات کشیدگی کی جانب جا رہے تھے، بھارت تبت کے مذہبی رہنما دلائی لامہ سے تعلقات استوار کر رہا تھا، 1962 ء میں لداخ پر بھارت چین کی جنگ ہوئی، یہ علاقے میں ایک تبدیلی تھی جو پاکستان کے حق میں اس لحاظ سے بہتر تھی کہ بھارت کا ہمسایہ اور دنیا کا ایک بڑا ملک بھارت سے دور ہو کر پاکستان کے نزدیک آرہا تھا، اس موقع پر چین کی جانب سے یہ پیغام بھی دیا گیا تھا کہ یہی وقت ہے کہ پاکستان بھارت سے جنگ کر کے کشمیر حاصل کر لے لیکن صدر ایوب خان نے ایسا نہیں کیا اس پر بعض حلقوں کی جانب سے بعد میں اُن پر شدید تنقید بھی ہوئی لیکن وہ نہ صرف ملک کے طاقتور صدر تھے بلکہ ملک کی تاریخ کے واحد فائیو اسٹار جنرل یعنی فیلڈ مارشل بھی تھے اور اُن کے پیش نظر اُس وقت کی تمام صورتحال تھی۔

امریکا نے انتباہ کر دیا تھا کہ چونکہ بھارت ایک غیر کیمونسٹ ملک ہے اور اُس کی جنگ کیمونسٹ چین کے ساتھ ہے اس لیے بھارت پر حملہ نہ کیا جائے، دوسری صورت میں بھارت سوویت یونین کا بھی قریبی دوست تھا اس لیے اس موقع پر روس، چین اور پاکستان کے خلاف بھارت کے حق میں آسکتا تھا اور امریکا کے لیے یہ بہت ہی بہتر پوزیشن ہوتی کہ چین اور سوویت یونین جیسے کیمو نسٹ ملک بھارت کے حوالے سے آپس میں جنگ میں الجھ جاتے، اس موقع پر پاکستان مکمل طور پر قربانی کا بکرا بن جاتا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ کشمیر پر جو جنگ اکتوبر1947ء تا 5 جنوری 1949 ء ہوئی وہی موقع پاکستان کے لیے بہترین تھا۔

اس کا موازنہ اگر اسرائیل عرب پہلی جنگ 1948 ء سے کیا جائے تو اس جنگ میں اسرائیل بہتر پوزیشن میں تھا، جب کہ پہلی پاک بھارت جنگ جس میں 18 جولائی 1947 کے قانون ِ آزادیِ ہند کے مطابق دونوں ملکوں بھارت اور پاکستان کی حیثیت ڈومینین اسٹیٹ کی تھی اور دونوں ملکوں کا سپریم کمانڈر بھی ایک تھا مگر اس کے باوجود مجاہدین، قبائلیوں کے ساتھ کرنل اسلم خان، کرنل شیرخان ،کرنل اکبر خان اور میجر زمان کیانی نے پاکستانی فوج کے ہمراہ اہم ترین فتوحات حاصل کی تھیں اور بقول کرنل اکبرخان جو بعد میں میجر جنرل ہوئے، کہ وہ سری نگر اور پٹھان کوٹ کے قریب تھے اور ہوئی اڈاہ زد میں تھا مگر چونکہ قبا ئلی لشکر فوجی ڈسپلن سے ناآشنا تھا۔

اس لیے بھارتی فوج چوکنا ہو گئی ورنہ شائد اسی جنگ کے پہلے حملوں ہی میں مکمل جموں وکشمیر حاصل ہو جاتا۔ مگر یہ بھی خوش قسمتی ہے کہ ہم نے اُس وقت جو رقبہ آزاد کروایا وہ اب تک آزاد ہے اور ہم اب بھی اس پو زیشن میں ہیں کہ اس رقبے سے بہت بہتر انداز کی جنگی اسٹر ٹیجی کے ساتھ بھارت کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ یہ بھی اہم ہے کہ 1960-61 میں عالمی بنک کے تعاون اور معاونت سے بھارت کے ساتھ پانی کی تقسیم کے مسئلے پر مذاکرات اختتام پر پہنچے تھے اور 1962 میں سندھ طاس معاہدہ حتمی صورت میں سامنے آیا اور دونوں ملکوں کے نمائندوں نے اس پر دستخط کردئیے۔

واضح رہے کہ آزادی اور قیام پاکستان کے فوراً بعد جب کشمیر کے مسئلہ پر پہلی پاک بھارت جنگ ہوئی تو بھارت نے اُس وقت آبی جارحیت کا مظاہرہ کیا تھا اور پاکستان آنے والے دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان جیسے نئے ملک کو ایک بنجر خطہ بنانے کا اعلان بھی کر دیا تھا جس پر پاکستان نے اُس وقت اقوام متحدہ سے رجوع کیا تھا اور اُس وقت سے اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک کے ادارے دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے مسئلے کو حل کرانے کی کوششوں میں مصرف تھے۔

اگر چہ اس پر پاکستان کے ماہرین کی رائے یہ تھی کہ اصول کے مطابق بھارتی علاقے خصوصاً بھارتی مقبوضہ کشمیر سے آنے والے دریا ئے سندھ، جہلم، چناب، راوی، ستلج اور بیاس کے پانیوں کو اس کے قدرتی بہاؤ کے مطابق پاکستانی علاقوں میں آنا چاہیے مگر ریلوے کے نظام کی طرح برصغیر میں انگریزوں نے اپنے عہد میں نہری نظام کو بہت معیاری بنایا تھا، ہیڈورکس بیراج اور ڈیمز تعمیر کئے تھے ویسے تو اس وقت بھی دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام پاکستان میں ہے مگر اس کی تقسیم کے ہیڈ ورکس بھارت کو دے دیئے گئے تھے۔

اس لیے بہرحال دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا کو ئی پائیدار اور مستحکم نظام چاہیے تھا اور اس کے لیے سندھ طاس معاہدے پر بھی اسی سال دستخط ہوئے، اس معاہدے کی بنیاد پر تین مشرقی دریاؤں راوی، ستلج اور بیاس کے پانیوں پر بھارت کے اختیار کو تسلیم کر لیا گیا اور تین مغربی دریا دریا سندھ ، جہلم اور چناب پاکستان کو دے دیئے گئے اور پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کے لیے دو بڑے ڈیموں کی تعمیر کو ضروری قرار دیا گیا، جس سال لداخ پر چین اور بھارت کی جنگ ہوئی اور چین نے بھارت سے ایک بڑاعلاقہ حاصل کر لیا، یوں پاکستان نے اُس وقت بھارت پر حملہ نہیں کیا۔

اس طرح نہ تو پاکستان نے امریکا جیسے حلیف کو ناراض کیا اور نہ ہی سوویت یونین جیسی مخالف کو فوراً مدمقابل آنے کا موقع فراہم کیا۔ پھر سندھ طاس معاہدے کے تحت خیبر پختونخوا کے علاقے میں تربیلا ڈیم اور جہلم کے نزدیک آزاد کشمیر کے شہر میر پور میں منگلا ڈیم کی تعمیر شروع ہوئی۔ یہ ڈیم اُس وقت دنیا کے بڑے ڈیموں میں شمار ہوتے تھے۔ اس معاہدے سے پاکستان کو دو طرح کے فائدے ہوئے ایک یہ کہ آزاد کشمیر جو کہ اقوام متحدہ کے مطابق کشمیریوں کی آبادی کے لحاظ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ ہے، وہاں بھارت نے یہ تسلیم کیا کہ اس علاقے میں پاکستان کو پانی کی سپلائی کے لیے ڈیم بنایا جا سکتا ہے اور پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ کشمیریوںکو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ رائے شماری کا حق دیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کی بنیاد پر فیصلہ ہو جائے گا اور یہ ثبوت ہے کہ آزاد کشمیر میں پاکستان کو پانی کی سپلائی کا تربیلا ڈیم قائم ہے۔

جس کے لیے آزاد کشمیر میں کشمیریوں نے اپنے شہر میر پور کی قربانی دی کیونکہ تربیلا ڈیم کی تعمیر سے میر پور کا شہر زیرِآب آگیا یعنی تربیلا ڈیم میں میر پور کا شہر ڈوب گیا، اور اس مقام سے ہٹ کر دوبارہ شہر تعمیر کرنا پڑا، دوسرا فائدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہوا کہ جس وقت اس ڈیم کی تعمیر جاری تھی اُس وقت دوسری جنگ ِعظیم کے بعد یورپ کے دوسرے ملکوں کی طرح برطانیہ میں بھی تعمیر نو کا عمل مکمل ہوگیا تھا اور اب وہاں تیز رفتار صنعتی اقتصادی ترقی کے لیے بڑی افرادی قوت کی ضرورت تھی اور جو کمپنی یہاں میرپور میں ڈیم کی تعمیر کر رہی تھی۔

اُس نے یہاں بے گھر ہونے والے لوگوں کوایک یہ بھی سہولت فراہم کی کہ اگر یہ برطانیہ میں روزگار کے لیے جانا چاہیں تو اِن کو وہاں بھیجا جائے گا، یوں اُس وقت آزادکشمیر خصوصاً میر پورکے علاقے سے ہزاروں کشمیری برطانیہ گئے اور پھر وہاں مستقل آباد ہو گئے جن کی تعداد اب وہاں تیسر ی نسل کے اعتبار سے ڈھائی لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ میرے ایک دوست چوہدری خلیق الزمان ہیں جو میر پور میں ڈپٹی کسٹوڈیم ہیں، اُنکے والد چوہدری صوفی محمد یعقوب شہید وہاں کی معروف شخصیت تھے، اِن پرکتاب بھی تحریر کی ہے اور وہاں راقم کا جانا رہتا ہے اس لیے میں کشمیریوں کی کشمیر سے محبت اور وابستگی پر حیران رہتا ہوں کہ جو کشمیر ی تربیلا ڈیم کی تعمیر کے وقت برطانیہ گئے تھے۔

اب اُن کی تیسری نسل بھی برطانیہ کی شہر ی ہے جن کے والدین بھی برطانیہ ہی میں پیدا ہوئے مگر حیرت کی بات ہے کہ وہ نہ صرف کشمیری ہیں بلکہ اُن کو اپنے کشمیر ی ہونے پر فخر بھی ہے، وہ تمام ہی خود اور اپنے بچوں کو سالانہ تعطیلات میں آزاد کشمیر بھیجتے ہیں اور یہاں موجود اساتذہ ، دانشور اور محقق اِن برطانوی نژاد کشمیری بچوں اور نوجوانوں کو کشمیر کے متعلق بتاتے ہیں۔ واضح رہے کہ اِس وقت اِن کشمیریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کئی برطانوی نژاد کشمیری برطانیہ کے ہاوس آف لارڈ اور ہاوس آف کامن میں موجود ہیں ، یوں برطانیہ سے یہ تمام لوگ کشمیر کے لیے بہت موثر انداز میں آواز بلند کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

(جاری ہے)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here