دُنیا دیکھتے ہی دیکھتے کتنی بدل گئی ہے کہ خود اپنی آنکھوں اورکانوں پر یقین نہیں آتا کہ ہم آج جو کچھ اپنے اطراف میں دیکھ رہے ہیں واقعی وہ حقیقت ہے یا خواب؟ اور اگر یہ حقیقت ہے تو اس سے پہلے ہم نے آنکھیں کھولنے کے بعد جوکچھ دیکھا تھا وہ حقیقت تھی یا خواب؟

تو بات سچی یہی ہے کہ اس سے پہلے جو کچھ ہم دیکھتے رہے وہ بھی خواب نہیں تھا اور جوکچھ کھلی اور پھٹی آنکھوں سے اب دیکھا جا رہا ہے وہ بھی حقیقت ہے، تکلیف دہ اور دلخراش حقیقت اور ابھی اورکتنی عجیب وغریب، نئی نئی حقیقت سامنے آئیں گی۔ ویسے بھی سائنس اورٹیکنالوجی نے اتنی حیرت انگیز ترقی کرلی ہے کہ اب حیران ہونا بجائے خود ایک حیرت کی بات معلوم ہوتی ہے۔

کون سی چیز ہے جو نہیں بدلی؟ سبھی کچھ بدل گیا ہے۔ فہرست بہت طویل ہے، لیکن پچھلے دنوں ڈاکٹروں کے بارے میں ایک رپورٹ پڑی تو جسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ ایک زمانہ تھا جب ڈاکٹر یا معالج کو مسیحا کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ جذبہ انسانی کے تحت مریضوں کا علاج کرتے تھے۔ ان کے دکھوں کو اپنا دکھ اور ان کے درد کو اپنا درد جانتے تھے۔

ان کی دل جوئی اور علاج کے لیے ہر ممکن تدبیر کرتے تھے۔ معاوضے اور کمائی کا کوئی تصور تک نہ تھا۔ خدمت اور محض خدمت ان کا مطمع نظر ہوا کرتا تھا۔ طب کا پیشہ، پیشہ نہیں خدمت انسانی سمجھا جاتا تھا لیکن آج یہ (کم ازکم ہمارے ملک میں) ایک جھوٹ اور مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ آج بیشتر لوگ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کے لیے نہیں ، انسانوں کو دکھ یا اذیت پہنچانے کے لیے ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹروں کی فیس دیکھیے تو ہوشربا ، ان کی ادویات کی قیمت دیکھیے تو آسمان سے باتیں کرتی ہوئی۔ لیبارٹری کے ٹیسٹ اتنے مہنگے کہ عقل حیران رہ جائے۔ پرائیویٹ اسپتالوں کے کمروں کے کرائے فائیو اسٹار ہوٹلوں کے کرایوں کے ہم پلہ۔ پہلے سرکاری اسپتالوں میں آنسو پونچھنے کے لیے ہی سہی علاج یا تو مفت ہوجاتا یا پھر سستا ہوتا تھا، جنرل وارڈ میں مریضوں کو ناشتہ اور کھانا بھی فراہم کیا جاتا تھا اور یہ تھوڑے عرصے پہلے ہی کا ماجرا ہے لیکن اب یہ طریقہ متروک ہوچکا ہے۔

ایک طرف عوام پر بے شمار اور بے انتہا ٹیکسوں اور جرمانوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے، دوسری طرف ان کو دی جانے والی سہولتیں گھٹتی جا رہی ہیں۔ پرائیویٹ اسپتال کھالیں اتارنے کے لیے کیا کم تھے کہ اب سرکاری اسپتالوں کو بھی ’’خود مختاری‘‘ کے نام پر لوٹ کھسوٹ کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب غریب اور بے نوا آدمی کہاں جائے؟ علاج معالجے کے اخراجات کے پیسے کہاں سے لائے؟ اس کا تو مہینے کا راشن 25 دنوں میں ختم ہوجاتا ہے۔ عام آدمی پل صراط کی طرح اپنے مہینے کے آخری ہفتہ کو چلا پاتا ہے بمشکل تمام اپنی فیملی کو لے کر۔

اخراجات سے قطع نظر پیشتر ڈاکٹروں کا طرزِ عمل انتہائی انسانیت سوز اور بے حسی کا ہوچکا ہے۔ بھاری فیسیں اور منہ مانگی رقمیں وصول کرنے کے بعد بھی ڈاکٹر کو مریض سے کوئی ہمدردی نہیں۔ بعض اوقات تو دیکھ کر یا واقعات پڑھ کر یا سن کر یقین نہیں آتا کہ یہ تذکرہ کسی ڈاکٹرکا ہے؟ قصاب کا ہے یا پھر کسی ڈاکو کا؟ خدا کی پناہ۔ آئے دن اخبارات اور ٹی وی چینلز ایسے مظلوم ستم رسیدہ لوگوں پر گزرنے والے واقعات کو ہائی لائٹ کرتے رہتے ہیں مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

آخر ہم سب اس قدر بے حس اور سفاک کیوں ہوگئے ہیں؟ ہمدردی ، محبت ، انسانیت اور خدمت کا جذبہ کہاں چلا گیا؟ ڈاکٹر مریضوں کا معائنہ کرنے کے دوران مریض کو تسلی دینے کے بجائے زندہ لاش سمجھ کرگورکن کی طرح ایک طرف کیوں پھینک دیتے ہیں؟ ایسی سنگدلی، بے حسی اور ظلم کی کم سے کم کسی ڈاکٹر سے توقع نہیں کی جاسکتی لیکن ایسا ہی کچھ ہورہا ہے۔

ہمارے ارباب اختیار یا سیاست داں معاشرے کو پہلے ہی سے لاغر اور لاچار کرچکے ہیں اور ڈاکٹر ان بیماروں کو پہلی فرصت میں مُردوں میں تبدیل کر رہے ہیں۔ سُبحان اﷲ ۔ کیا خوب تقسیم کاری ہے۔ ہمارے اکثر ڈاکٹر اور اسپتال لوگوں کے دکھ اور مرض کو دورکرنے کے بجائے انھیں بڑھانے میں مصروف ہیں۔

ستم بالائے ستم ڈاکٹر مریض اور اس کے لواحقین کو اب صاف صاف بتا دیتے ہیں کہ مریض کتنے دن جی سکے گا۔ کیا زمانہ تھا کبھی مریض کے کسی عزیز تک کو اس کے مرض کی نوعیت نہیں بتائی جاتی تھی تاکہ وہ نا امید نہ ہو لیکن آج کا طریقہ یہ کہ مریض اور اس کے لواحقین کو سب کچھ صاف بتا دیا جاتا ہے اور مریض اور اس کے لواحقین کو اتنی اذیت ناک اطلاع دینے کا مقصد کیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ غریب زندہ درگور ہوجاتا ہے اور موت کے انتظار میں وقت سے کچھ پہلے ہی مر جاتا ہے۔

ایسا بھی ہوتا ہے کہ اکثر ڈاکٹر کی تشخیص اور رائے غلط بھی ثابت ہوجاتی ہے۔ لیبارٹریاں صحیح غلط کسی دوسرے خطرناک مریض کی رپورٹ کسی اور کے نام پر بنا دیتی ہیں، کبھی خود ڈاکٹر بھی دھوکے کھا جاتا ہے۔ چند خوش نصیبوںکو اس غلطی کا علم ہوجاتا ہے اور وہ سسک سسک کر مرنے سے بچ جاتے ہیں۔

آج کل ڈاکٹروں خصوصاً کامیاب ڈاکٹروں، خصوصی معالجوں کی آمدنی حد درجہ بڑھ گئی ہے اور وہ شب و روز دولت کمانے میں ہم تن مصروف نظر آتے ہیں۔ جیسے ان کی زندگی کا مقصد اور ڈاکٹر بننے کا نصیب العین کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہے۔

یہ ایک ناقابل تردید اور انتہائی تکلیف دہ حقیقت ہے کہ موجودہ جدید عہد نے انسانوں سے اس کی بنیادی خصوصیات، احساس اور انسانیت چھین لی ہے۔ ایک افراتفری کا عالم ہے ہر پہلا قدم دوسرے کے وجود کو کُچل کر آگے بڑھ جانے کے زعم میں مبتلا ہوکر ایسا کر بھی رہا ہے۔ کسی کو کسی کی خبر ہے نا پرواہ۔ ہر کوئی اپنے مسائل اور معاملات میں گرفتار یا مگن ہے۔ اولاد تک کو اپنے والدین کا احساس نہیں رہا ہے۔ اچھائی، برائی، اخلاق اور مذہب کی تمام انسانی اور عالمی اقدار و روایات ایک ایک کرکے ختم ہوچکی ہے۔ آج سے 30 یا 40 سال قبل بھی کوئی تصور نہیں کرسکتا تھا کہ دنیا ایسی ہوجائے گی۔

ماضی کا دور کیا زریں کیا سنہری تھاکہ دواؤں، دوائی کمپنیوں یا اسپتالوں اور ڈاکٹروں کو دیکھ کر مریضوں میں جینے کی رمق پیدا ہوجاتی تھی اُن کا مُرجھایا ہوا چہرہ گھڑی بھرکے لیے سہی کھل اُٹھتا تھا لیکن افسوس صد افسوس اب میڈیسن کمپنیوں اور ہر بڑے چھوٹے اسپتالوں میں بیماریوں کا ڈر اور موت کا خوف ہی بیچا جا رہا ہے اور ایک ڈاکٹری جیسا مقدس پیشہ ہے۔ کیا ہمارے سماج میں تو ہر چیز ہی بکاؤ ہے، ہر چیز بکتی ہے یہاں۔

ہر روز ایک نیا سورج نئے نئے واقعات کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ لالچ اور دولت کی ہوس اور مُردہ ضمیری نے آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے۔ ہرکوئی اندھا دھند دولت اور اقتدار کے پیچھے بھاگا جارہا ہے۔ یہ دونوں چیزیں اب لازم و ملزوم ہوکر رہ گئی ہیں۔ جب دولت ہی خدا ہوجائے تو اﷲ کے بندوں کا کیا حشر ہوگا ؟

جان بچانے والے ہی جب جان کے درپے ہو جائیں تو پھر موت کو آنے میں کتنی دیر لگتی ہے۔ دراصل ہم سبھی ایک عجیب قسم کے حالت جنگ میں ہیں اور جنگ میں ہمیشہ بھاری تعداد میں بے قصور لوگ ہی مارے جاتے ہیں۔ اس لیے بھی کہ جنگ میں سوائے جنگ کے کوئی چیز معنی نہیں رکھتی۔ نہ انسان نہ انسانیت نہ ہم اور نہ آپ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here