موجودہ دور میں کافر و مشرک قوموں کی حکمرانی ہے، واقعہ یہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی ملت کی جو شان ہے، اس شان میں وہ کہیں بھی موجود نہیں ہیں ۔ اگر کہیں ہیں تو وہ بھی حقیقت میں ان ہی کے زیر سایہ محتاج ہیں اور وہ دعوت بھی دیتے ہیں کہ آپ آیئے تو ہم آپ کی خدمت کرنے کے لیے جوتیاں سیدھی کرنے کے لیے تیار ہیں ۔

ملاحدہ آپ کو جو طعنہ دیتے ہیں اس لیے کہ قرآن کی لاج آپ نے نہیں رکھی تب طعنہ سننا ہی پڑے گا ۔ لیکن اگر آپ لاج رکھنا چاہتے ہیں تو جماعتی حیثیت سے اور افرادی حیثیت سے، دونوں حیثیتوں سے مسلم بنئے۔ انفرادی حیثیت سے جو مسلم بنیں گے وہی اجتماعی حیثیت سے مسلم بن سکتے ہیں اور اگر انفرادی حیثیت سے آپ تیار نہ ہوئے تو آپ کی کوئی جماعت مسلمہ نہیں بن سکتی ۔ جب ملت مسلمہ بن جائے گی تب چیلنج وہ کر سکتی ہے ، سب سے وہ پنجہ آ زمائی کر سکتی ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلم ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی، ٹھیک ہے۔

پیغمبر اسلام نے جب کفار مکہ پر اسلام پیش کیا اور اپنی دعوت پر اڑے رہے تو کفار مکہ نے ان سے سودا بازی کرنے کی کوشش کی ۔ کہا گیا کہ ان کے کاروبار میں مداخلت نہ کی جائے ، ان کے دنیاوی جاہ و مرتبہ اور تفریق کو برقرار رہنے دیا جائے ۔ ان کی اخلاقی زندگی کو پہلے کی طرح آزاد رکھاجائے تو وہ بت پرستی چھوڑ کر محمدﷺ اور کعبہ کے خدا کو ایک مان لیتے ہیں اور انھیں پیغمبر تسلیم کر لیتے ہیں لیکن حضورﷺ نے جواب دیا کہ اس دنیا کو درست کرنے کے لیے تو وہ مبعوث کیے گئے ہیں ۔ یہی تو وہ انقلاب ہے جس کو لانے کے لیے وہ ان کفار کا ہر ستم سہنے پر تیار ہیں ۔

قرآن پاک اور آنحضرتﷺ کی سیرت پاک اس انقلاب کی ایک عملی تصویر ہے ۔ آج مسلم دنیا میں ہمارا طرز عمل اور عام زندگی کا رویہ عملاً یہی ہے جو حضور ﷺ کے زمانے میں اسلام کے دشمنوں کا تھا کیونکہ ہم بھی اسلام کو اپنی دنیاوی زندگی میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتے ۔ بس فرق اتنا ہے کہ ہم زبان سے توحید اور رسالت کا ا قرار کرتے ہیں اور یوں امید ہے کہ ہم سزا کاٹ لینے کے بعد شاید جنت میں چلے جائیں کیونکہ ہم فنی اعتبار سے مسلمان ہیں اور یہ بھی ہماری مغفرت کا شاید ایک سبب بن جائے کہ ہمارے اندر جو کچھ گروہ ایسے موجود ہیں جو اس حقیقی اسلام کے نفاذ کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں حتیٰ کہ جان اور مال بھی قربان کر رہے ہیں۔

ہمارے دوست مسلمان ملک ملائیشیاء کے بزرگ حکمران جناب مہاتیر محمد نے مسلمانوں کو اکٹھا کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے لیے انھوں نے چیدہ چیدہ ملکوں کے سربراہوں کو دعوت دی جس میں پاکستان بھی شامل تھا ۔ پاکستان کا مسلم دنیا میں ایک مقام ہے، وہ الگ بات ہے کہ ہم نے اپنے اس علیحدہ تشخص کی کبھی قدر نہیں کی  حالانکہ جب ہم نے ایٹمی دھماکے کیے تھے تو اسلامی دنیا اس بات پر ناراض ہو گئی تھی کہ اس بم کو پاکستانی بم  کیوں کہا جا رہا ہے، یہ امت مسلمہ کا بم ہے لیکن پاکستان نے مسلم دنیا میںاپنی اس امتیازی حیثیت کو کبھی کیش کرانے کی کوشش نہیں کی بلکہ خدمت گزاری والا رویہ رکھا جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم آج مسلمانوں کے اکٹھ میں شرکت بھی نہ کر سکے ۔

اس کی وجوہات ہم سب کے سامنے ہیں اور ہمارے ترک دوست رجب طیب اردوان نے اسٹیج سے ان کا اعلان بھی کیا ہے کہ پاکستان کی مسلم اکٹھ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سعودی دباؤ ہے۔ پاکستان سعودی دباؤ برداشت نہیں کر سکا اور اس کے حکمران عمران خان نے اپنا نمایندہ بھیجنے سے بھی معذرت کر لی ہے ۔ گو کہ اس بیان کے بعد سعودی حکومت کے پاکستان میں سفیر نے معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کی ہے لیکن حقیقت یہی ہے جس سے مسلم دنیا آگا ہ ہے ۔ کون نہیں جانتا کہ ملائیشیاکی ترقی کا کیا راز ہے اور ترکوںنے کتنی جدو جہد کے بعد اپنے ملک کو معاشی طور پر سنبھالا ہے ۔

ابھی کل کی بات ہے کہ ترک کرنسی لیرا کمزور ترین کرنسی تھی اور ملائیشیا کی معیشت کا عالمی ساہوکار اداروں نے دیوالیہ نکال دیا تھا لیکن مہاتیر محمد ڈٹ گئے اور انھوں نے کسی بیرونی امدا د کے بغیر اپنے ملک کو اپنے وسائل سے ہی پاؤں پر کھڑا کر دیا اور دنیا کو یہ بتا دیا کہ اگر حکمرانوں میں غیرت کی کوئی چھوٹی موٹی رمق باقی ہو تو ملک میں کیا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ یہی حال تر کوں کا ہے جو یورپ کا حصہ ہونے کے باجود غیر مسلم طاقتیں ان کو اپنے ساتھ شامل کرنے سے انکاری ہیں لیکن اس کے باوجود ترکی اس وقت دنیا کی ایک بڑی مارکیٹ بن چکا ہے اور یہ سب اس کی لیڈر شپ کا کمال ہے ،کسی نے باہر سے آ کر ان کی مدد نہیں بلکہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اپنے بل بوتے پر کیا ہے ۔

اخبار نویس ہونے کے باوجود مجھے معلوم نہیں کہ ہمارے حکمرانوں کے فیصلے کو ن کرتا ہے اور ان کی مشاورت کا اعزاز کون رکھتا ہے۔ ایک دو مشیروں کا ذکر سنتے رہتے ہیں ۔ یہ عین ممکن ہے کہ اب سب کا ذکر برائے نام  ہوتا ہو اور فیصلے کہیں اور ہوتے ہوں ۔ بہر حال ہمارا حکمران ایک بے داغ ماضی رکھتا ہے، وہ حیرت انگیز حد تک کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں، دنیا ان کی بات سنتی ہے لیکن ان کے ساتھ بد قسمتی یہ ہے کہ وہ سیاستدان نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی ایسا قابل مشیر ان کے آس پاس نظر آتا ہے جو ان کو جہانبانی کے اصل رموز سے آگاہ کرے ۔

کیونکہ جس شخص کی بات کو دنیا سننا چاہتی ہے اس شخص کو اپنی باتوں کو وزنی پلڑے میں ڈالنے کے لیے سیاسی داؤ پیچ کی ضرورت بھی ہوتی ہے ۔ مسلم اکٹھ میں شرکت نہ کرنے کا پاکستان کو کتنا نقصان ہوا اس کا علم تو بعد میں ہو گا لیکن عمران خان کی عدم شرکت نے ان کی انقلابی باتوں اور ان کی شخصیت کو ٹھیس ضرور پہنچائی ہے ۔ ہمیں ایک ایسی خارجہ پالیسی کی وضع کرنے کی ضرورت ہے جس میں بدلتی دنیا کی سیاسی ضروریات کے ساتھ ساتھ مضبوط معیشت کا بھی عمل دخل ہو کیونکہ دنیا میں ہماری حیثیت اس وقت ایسے بھیک منگے کی ہے جس کو ہر وقت ڈالروں اور ریالوں کی ضرورت ہے ۔

ہمیں خوش فہمیوں اور دوستیوں کو نبھانے کے ساتھ پاکستان کو مسلم اُمہ کاپاکستان بنانے کے لیے اپنی ترجیحات وضع کر لینی چاہئیں، اپنی ساکھ کی فکر کرنی چاہیے ۔ مسلم دنیا میں ایک باوقار اور طاقت ور ملک کے طور پر ہمیں اپنی ذمے داریاں ادا کرنی ہیں تا کہ ہم حقیقی معنوں میں مسلم اُمہ کا پاکستان کہلا سکیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here