اس وقت ملک جس معاشی بحران سے گزر رہا ہے وہ ہڑتالوں کا قطعی متحمل نہیں ہو سکتا۔ فوٹو: فائل

حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ٹیکسوں کے خلاف تاجروں نے ملک گیر ہڑتال کی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق لاہور، اسلام آباد،کراچی، پشاور اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں بڑے کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہیں البتہ بعض مقامات پر جزوی ہڑتال ہوئی۔ میڈیا کے مطابق ہڑتال کے باعث ملکی معیشت کو 20سے 25ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔

ادھر حکومتی وزراء ہڑتال کو ناکام قرار دے رہے ہیں۔ ہڑتال کامیاب ہوئی یا ناکام مگر اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ اس سے ملکی معیشت کو جو نقصان پہنچا وہ کمزور معاشی صورتحال کے تناظر میں ایک بہت بڑا نقصان ہے۔

ہڑتال کے معاملے پر تاجر رہنما دو گروپوں میں تقسیم نظر آئے تاہم دکانداروں نے بعض تاجر رہنماؤں کی ہڑتال نہ کرنے کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے دکانیں بند رکھیں۔ لاہور میں 200سے زائد چھوٹی بڑی مارکیٹوں نے90فیصد سے زائد دکانیں بند رکھیں‘ پشاور میں بھی شٹرڈاؤن رہا، کوئٹہ میں بھی ہڑتال رہی‘ ڈیرہ اسماعیل خان میں شٹرڈاؤن کے ساتھ ٹرانسپورٹرز نے بھی ہڑتال کی ہے البتہ بعض شہروں میں تمام مارکیٹیں کھلی رہیں اور بعض میں جزوی ہڑتال ہوئی۔

آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین کے مطابق ملک بھر میں تاجروں کا ایک دن کا ٹرن اوور تقریباً 50ارب روپے ہے اس لیے اس ملک گیر ہڑتال کے نتیجے میں ملکی معیشت کو 20سے 25ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے کہا کہ تاجر برادری کی بڑی تعداد نے ہڑتال رد کر کے حب الوطنی کا ثبوت دیا ، بات چیت سے تمام خدشات دور کریں گے‘ وزیر ہاؤسنگ میاں محمود الرشید نے کہا کہ تاجر برادری نے ہڑتال کی کال سے لاتعلق رہ کر ملکی معیشت کے خلاف کی جانے والی سازش کو ناکام بنا دیا، صوبائی وزیر قانون بلدیات راجہ بشارت نے کہا کہ ہڑتال کی ناکامی درحقیقت حکومت کی کامیابی ہے۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے حکومتی وزراء کے موقف کے برعکس اپنی رائے میں کہا کہ تاجر برادری کی ملک گیر کامیاب ہڑتال نے حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔ ہڑتال کے موقع پر مختلف تاجر رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تاجر برادری کو مذاکرات کے لیے بلائے۔

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہیں کہ ہڑتالیں کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے نقصان کا باعث ہوتی ہیں جس سے وقتی طور پر نہ صرف سرمایہ کاری رک جاتی بلکہ مستقبل میں بھی ہونے والی سرمایہ کاری  میں سد راہ ہوتی ہیں۔ اس ہڑتال سے واضح ہو جاتا ہے کہ حکومت تاجروں سے مذاکرات میں ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی‘ حکومت کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ سخت رویہ اختیار کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہی بہترین حکمت عملی ہوتا ہے۔

بہتر ہے کہ چیئرمین ایف بی آر پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے وزیراعظم ملک بھر کے تاجروں سے خود بات چیت کریں‘ ممکن ہے وزیراعظم کی براہ راست تاجروں سے گفتگو سے معاملے کا بہتر حل نکل سکے۔ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی پر ہوتا ہے‘ کسی بھی فریق کی جانب سے غیرلچک دارانہ رویے سے معاملات بہتر ہونے کے بجائے بگڑتے چلے جاتے ہیں۔

اس وقت ملک جس معاشی بحران سے گزر رہا ہے وہ ہڑتالوں کا قطعی متحمل نہیں ہو سکتا‘ کاروبار کی ترقی اور ملکی معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے کہ تاجر برادری بھی حکومت کے ساتھ معاملات افہام و تفہیم سے حل کرے۔

دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ عالمی بینک کے سرمایہ کاری سے متعلق ثالثی ٹربیونل نے سات سال پرانے ریکوڈک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان پر 5ارب 97کروڑ60لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کر دیا ہے، عدالت کی طرف سے ٹھیکے کی منسوخی کے بعد 2012ء میں متعلقہ کمپنی نے ورلڈ بینک کے ٹربیونل میں پاکستان کے خلاف 11ارب 20کروڑ ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان جو پہلے ہی اپنے معاشی نظام کو پٹڑی پر لانے کے لیے آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر کے قرضے کا معاہدہ کر چکا ہے وہ اتنی بڑی رقم کا ہرجانہ کیسے ادا کرے گا۔ لڑائی کو جتنا بھی طول دیا جائے اس کا نقصان ہمیشہ دونوں فریقوں کو پہنچتا ہے لہٰذا بہتر ہے کہ حکومت معاشی بحران کے حل کے لیے تاجروں سے الجھنے کے بجائے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے اور تاجروں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ٹیکس ایمانداری سے ادا کرنے کے لیے حکومت سے ہر ممکن تعاون کریں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here