وادی کشمیر بہ مثل جنت نظیر جہنم زار کیسے، کیوں اور کب بنی اور اس کے چناروں کو کس نے آگ دکھائی اور اس کے باسیوں کو کیسے جہنم زار میں دھکیلا گیا، یہ حقیقت تو ہر ایک جانتا ہے، لیکن اس سال کشمیر پر قابض بھارت نے اس بہشت کو مکمل طور پر جہنم میں تبدیل کرڈالا۔

چند ماہ پہلے ہونے والے ہندوستان کے عام انتخابات میں مودی کی بھاری اکثریت سے جیت ایک ایسا واقعہ تھا، جس میں ہندوستانی سماج میں جاری تبدیلی کے عمل نے سب سے پہلے ہندوستانی سماج کی عرصے سے ایک ہی ڈگر پر چلی آنے والی سیاست کے خاتمے کا اعلان کیا تھا۔ یہ مودی کی انتخابی فتح سماج پر فاشزم کے تسلط کا اعلان تھا۔

اگست 2019ء میں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک صدارتی حکم نامہ بھارت کی راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا میں پیش کیا، جس میں بھارتی آئین کی شق نمبر 370 کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔ راجیہ سبھا میں اس پر مختصر بحث و مباحثے کے بعد 61 کے مقابلے میں 125 ووٹوں سے جب کہ لوک سبھا میں 67 کے مقابلے میں 367 ووٹوں سے اس کو منظور کر لیا گیا ہے۔

ہندوستانی آئین کی شق نمبر 370 مہاراجہ کشمیر کے الحاق ہندوستان کی دستاویز کا ہی تسلسل ہے جس کے ذریعے کشمیر کو ہندوستانی وفاق میں ایک مخصوص حیثیت کو برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس شق کے مطابق کشمیر کی ریاست کے امور خارجہ، مواصلات اور دفاع کا انتظام و اختیار مرکزی حکومت کے پاس ہوگا جب کہ باقی تمام امور کا اختیار ریاست کی قانون ساز اسمبلی کے پاس رہے گا۔

اس کے ساتھ کشمیر کی ریاست کو اپنا آئین بنانے اور اپنا الگ پرچم رکھنے کے اختیار کے ساتھ یہ استثنا بھی حاصل تھا کہ ہندوستان کے مکمل آئین کا اطلاق کشمیر میں نہیں ہو سکتا۔ اس کے ساتھ مہاراجہ ہری سنگھ کا بنایا ہوا ایک اور قانون جس کو باشندہ ریاست کا قانون بھی کہا جاتا ہے، جس کے مطابق کوئی بھی غیر کشمیری کشمیر میں زمین کی ملکیت اور سرکاری ملازمت جیسی کوئی بھی مراعات حاصل نہیں کر سکتا، کو بھی شق نمبر 35A کے ذریعے آئین کا حصہ بنا دیا گیا اور ان آئینی شقوں میں ریاست یا مرکز دونوں ایک دوسرے کی مکمل رضامندی کے بغیر کوئی تبدیلی نہ کر سکنے کے پابند قرار دیے گئے۔

لیکن اب ان شقوں کے خاتمے کے ذریعے بھارتی مقبوضہ کشمیر کی ایک نیم خودمختار ریاست کی حیثیت کے ساتھ ہر قسم کی داخلی خود مختاری کو ختم کرتے ہوئے کشمیر کو دو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرکے وفاقی اکائی کا درجہ دیتے ہوئے بہ راہ راست مرکز کے کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔

لداخ کو الگ مرکز کے تابع انتظامی اکائی بنایا گیا ہے جس کی کوئی اسمبلی نہیں ہوگی، جب کہ جموں اور کشمیر کے علاقوں کو الگ انتظامی اکائی بنایا گیا ہے جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی لیکن دونوں علاقوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایک لیفٹیننٹ گورنر ہی سب سے بااختیار حاکم ہوگا۔ یوں اس پورے خطے اور عالمی سطح پر گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیر کی تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کرتے ہوئے کشمیر کے بھارتی قبضے میں موجود حصے کو بھارت کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ خطے کی بعد از تقسیم تاریخ کا سب سے بڑا اور الم ناک اقدام ہے۔ مستقبل میں یہ اپنے اثرات کے حوالے سے ممکنہ طور پر تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوگا۔ بھارت کی موجودہ فاشسٹ قیادت نے مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت کو یک سر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔

کشمیر کی اس خصوصی حیثیت کا ایک پہلو بھارتی مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی حکم ران طبقات کی مراعات اور اختیارات کا بھی رہا ہے، جب کہ دوسرا پہلو کشمیر کی عوام، محنت کش طبقے اور نوجوانوں کی ہندوستان کے وحشیانہ جبر سے آزادی کے حصول سے عبارت ہے۔ کشمیر کے حکم ران طبقات کی سبھی سیاسی پارٹیاں اور گروہ اس خصوصی حیثیت کے باعث کشمیر کے داخلی معاملات اور لوٹ مار کے حوالے سے دیگر ریاستوں کے حکم رانوں کے مقابلے تقریباً مکمل آزاد اور بااختیار تھے۔

یہ بھارت نواز حکم ران بھارتی ریاست کی مکمل دلالی کرتے رہے اور انہوں نے مظلوم کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم کے خلاف کبھی کوئی سنجیدہ احتجاج تک نہیں کیا، بل کہ وہ خود اس کا ایک حصہ رہے ہیں۔ خصوصی حیثیت کا حامل کشمیر ،کشمیری عوام، محنت کشوں اور نوجوانوں کے لیے عملاً ایک بدترین اذیت گاہ، جیل اور مقتل ہی تھا، جہاں بھارتی فوج کو کشمیریوں کے خون کی ندیاں بہانے، خواتین کی عصمت دری کرنے، ماورائے عدالت قتل کرنے اور پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیاروں سے ان کو بینائی سے محروم کرنے کے خصوصی اختیارات حاصل تھے۔

کشمیری عوام کی اکثریت تو اس خصوصی حیثیت کے حامل کشمیر میں بھی اپنے لہو کا خراج دے کر زندہ تھی۔ بھارتی آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تحفظ فراہم کرنے والی تمام شقوں کی موجودی کے باوجود اگر کشمیری عوام کی زندگی ایک خون ریز جہنم کے مانند تھی اور اس سے نجات کی جدوجہد ایک کے بعد دوسری بغاوت کی صورت میں اپنا اظہار کرتی آئی ہے تو اس نئے ریاستی حملے سے اس صورت حال کو تو تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوسکتا۔

بھارتی حکومت کے موجودہ فیصلے ایک تباہ کن بھونچال کی مانند ہیں، جس نے سات دہائیوں سے قائم ایک نازک توازن کی بنیادیں ہی اڑا دی ہیں اور پورے خطے کو ایک جنگی صورت حال میں دھکیل دیا ہے۔ سات دہائیوں سے قائم اس توازن کے خاتمے سے پورے خطے میں ایک نئے اور تباہ کن دور کا آغاز ہوچکا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے دورۂ امریکا کے بعد جب ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا اعلان کیا تو پاکستانی حکم رانوں اور ذرائع ابلاغ نے اس کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی کام یابی بناکر پیش کیا تھا، جب کہ بھارت کے حکومتی ذرائع نے اس پیش کش کو اس قدر سختی اور حقارت سے رد کیا کہ ٹرمپ کو بھی اپنی پیش کش کو بھارت کی رضامندی سے مشروط قرار دینا پڑا۔

اگر پاکستانی حکم رانوں کی سفارتی کام یابی کے اعلان اور ٹرمپ کی ثالثی کی پیش کش کو مدنظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے موجودہ فیصلے کو دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ ہندوستان نے تمام عالمی سفارت کاری، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور ہر قسم کے ضابطوں کو پائے حقارت و رعونت سے روندتے ہوئے یہ فیصلہ کر لیا تھا اور عالمی طاقتوں سمیت پاکستان کے حکم رانوں کو اس کی پیشگی اطلاع بھی نہیں دی گئی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مہم کے میں یہ ایک اہم نعرہ تھا کہ وہ حکومت میں آنے کے بعد کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کریں گے۔ لیکن حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں تھا بل کہ بھارتی حکومت نے اس فیصلے سے عالمی طاقتوں کو ناصرف آگاہ کردیا تھا بل کہ اعتماد میں لیا تھا۔ ’’دی پرنٹ‘‘ نامی ویب سائیٹ پر 5 اگست کو شائع ہونے والے ’’نایانیما باسو‘‘ کے ایک مضمون کا عنوان ہی اس امر کی وضاحت کے لیے کافی ہے کہ ہندوستان نے اس فیصلے سے قبل تمام ضروری سفارت کاری کا عمل مکمل کر لیا تھا۔

انہوں نے انکشاف کیا: ’’مودی نے گذشتہ ہفتے کے دوران اور فروری میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے اپنے منصوبے کے بارے میں امریکا کو بتا دیا تھا۔‘‘ کے عنوان سے شایع ہونے والے اپنے مضمون میں باسو لکھتا ہے: ’’مختلف ذرایع نے ’پرنٹ‘ کو بتایا کہ امور خارجہ کے وزیر جے شنکر نے اپنے امریکی ہم منصب سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کو مودی حکومت کے آرٹیکل 370 اور35Aکے خاتمے کے منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ تاہم ذرایع کے مطابق، یہ پہلا موقع نہیں تھا جب امریکا کو اس کے بارے میں مطلع کیا گیا۔

بل کہ فروری میں پلوامہ حملے کے دو روز بعد مشیر برائے قومی دفاع اجیت دوول نے اپنے امریکی ہم منصب جان بولٹن کو ٹیلی فون پر اسی منصوبے کے بارے میں مطلع کیا تھا۔‘‘ اسی مضمون میں باسو مزید لکھتا ہے: ’’ذرایع کے مطابق مودی حکومت امریکا کو ناراض کرنے کی بالکل بھی متحمل نہیں ہوسکتی اور اسی لیے ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت برقرار رکھنے کے تمام ضروری و حفاظتی اقدامات کیے جا چکے تھے۔‘‘

کیا اب بھی سادہ لوح عوام کو یہ بتایا جاتا رہے گا کہ بھارت نے اچانک ہی اتنا بڑا دھماکہ خیز فیصلہ کرلیا تھا اور اس سے عالمی طاقتوں کو اعتماد میں نہیں لیا تھا؟ بھارتی حکومت کے اس فیصلے نے اس خطے کے اسٹیٹس کو کو دھماکے سے اڑا دیا ہے اور خود اس حکم ران طبقے کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں کہ ان کے اس اقدام سے آنے والے دنوں میں مزید کیا کچھ تبدیل ہو کر رہ جائے گا۔

ہمارے حکم رانوں اور سیاسی جماعتوں کا یہ مطالبہ بھی کسی حیرت اور ان کے ذہنی انتشار کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پر آئینی ترمیم کو واپس لے اور جن شقوں کو ختم کیا گیا ہے انہیں دوبارہ بحال کیا جائے۔ تو ہم یہ سوال کرنے میں حق بہ جانب نہیں ہوں گے کہ کیا اس مطالبے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آئین کی ان شقوں کی موجودی میں کشمیر پر ہندوستان کا قبضہ جائز تھا جو ان شقوں کے خاتمے کے بعد ناجائز ہوگیا ہے، اس لیے اس کو دوبارہ کسی طرح جائز بنایا جائے ۔۔۔۔ ؟

اس خطے کے عوام ، محنت کشوں اور نوجوانوں کے سامنے اس حقیقت کو واضح کرنا نہایت ضروری ہے جب تک اس حکم ران طبقے کو اس کے نظام سمیت اکھاڑ کر نہیں پھینکا جاتا اس وقت تک ظلم اور محکومی و محرومی کو نہیں ختم کیا جاسکتا۔ کشمیر پر جبر کی ایک نئی وحشت مسلط کی گئی جس کا خاتمہ کسی مطالبے کے ذریعے ممکن نہیں بل کہ اس کے خلاف پہلے سے جاری کشمیری عوام کی جدوجہد کے ذریعے ہی پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

کشمیریوں کو ہمیشہ سے یہ خدشہ تھا کہ اگر انڈیا کے آئین میں موجود آرٹیکل 35 اے اور 370 کی حفاظتی دیوار گرگئی تو وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہو جائیں گے کیوں کہ پھر یہاں غیر مسلم آباد کاروں کے بسنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔ اور پھر ان کا یہ خدشہ درست ثابت ہوگیا اور بھارت نے اپنے پیشوا اسرائیل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود کو بھی اسرائیل بناتے ہوئے کشمیر کو فلسطین میں بدل دیا ہے۔اس کا ثبوت بھارت کا متنازع شہریت بل کی صورت میں دنیا کے سامنے آگیا ہے۔ اس بل میں کیا ہے؟

لوک سبھا سے منظور ہونے والے اس متنازع شہریت بل کے ذریعے سنہ 1955 کے شہریت کے قانون میں ترمیم کی جا رہی ہے جس کے تحت بنگلادیش، پاکستان اور افغانستان سے آنے والے ہندو، بودھ، جین، سکھ، مسیحی اور پارسی غیر قانونی تارکین وطن کو شہریت دینے کی تجویز ہے، لیکن اس میں مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

مرکزی کابینہ کے ذریعے منظور کیے گئے اس بل میں کہا گیا ہے کہ ان مذہبی گروہوں کے تارکین کو اس بنیاد پر شہریت دی جائے گی کہ انھیں اپنے سابق ملک میں مذہبی مظالم اور تفریق کا سامنا کرنا پڑا یا انھیں مذہبی جبر کا خدشہ لاحق تھا۔ اس بل سے ارونا چل پردیش، ناگا لینڈ اور میزورم کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے جب کہ آسام، تری پورہ اور میگھالیہ کی شمال مشرقی ریاستوں کے قبائلی علاقوں پر بھی اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

حقوق انسانی کی تنظیموں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بل کے ذریعے مودی حکومت نہ صرف یہ کہ ہندو غیرقانونی تارکین وطن کو شہریت دینا چاہتی ہے بل کہ اس کا مقصد ملک اور دنیا کو یہ پیغام بھی دینا ہے کہ انڈیا اکثریتی ہندوؤں کا ملک ہے اور یہاں کی جمہوریت ہندو اکثریتی جمہوریت ہے۔ شہریت کا یہ متنازع بل بھی کشمیریوں سمیت مسلم اقلیت کو مزید غلام بنانے کی ہی ایک کڑی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اور اقوام متحدہ اپنا فعال کردار کب ادا کریں گے، ایسا کردار جس کے اثرات خلا میں نہیں برسر زمین بھی نظر آئیں۔

کشمیری لال ذاکر نے اپنے ناول ’’انگوٹھے کا نشان‘‘ (مطبوعہ 1978) کے دیباچے ’’پہلا قدم‘‘ میں لکھا ہے: ’’انسانیت کی اس سے زیادہ توہین اور کیا ہوسکتی ہے کہ کچھ صاحب اقتدار لوگ اپنی ہوشیاری سے بہت سے لوگوں کو عمر بھر کے لیے غلام بنالیں اور ان سے عزت و وقار سے رہنے کا حق چھین لیں۔‘‘

بھارت کی جانب سے کشمیر کی آئینی حیثیت کا خاتمہ پاکستانیوں کے لیے اس سال کا سب سے بڑا صدمہ تھا، تو دوسری طرف ہر پاکستانی کے دل میں اس سانحے نے یہ احساس مزید قوی کردیا کہ قائداعظم اور مسلم لیگ کی قیادت نے بھارت کی فریبی قیادت کے وعدوں پر اعتبار نہ کرتے ہوئے پاکستان قائم کرکے اس خطے کے مسلمانوں کو ہندوتوا اور بھارت کے مظالم سے بچالیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here