یہ مختصر اور دستی آلہ کسی بھی وائرس کی شناخت صرف چند منٹوں میں کر سکتا ہے۔ (فوٹو: فائل)

پنسلوانیا: دو مختلف امریکی جامعات کے ماہرین نے مشترکہ طور پر تحقیق کرتے ہوئے ایک ایسا مختصر آلہ ایجاد کرلیا ہے جو صرف چند منٹوں میں کسی بھی وائرس کی درست شناخت کرسکتا ہے۔ اس آلے کو ’’وائریون‘‘ (VIRRION) کا نام دیا گیا ہے۔

پنسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی اور نیویارک یونیورسٹی کے اشتراک سے تیار کیے گئے اس آلے لیزر شعاعوں کے علاوہ ایک خاص مظہرِ فطرت ’’رامن اثر‘‘ (رامن ایفیکٹ) سے استفادہ کیا گیا ہے جبکہ کاربن نینو ٹیوبز اور سونے کے نینو پارٹیکلز (نینو میٹر پیمانے جتنے مختصر ذرّات) استعمال کرتے ہوئے، وائرس شناخت کرنے میں اس کی درستی غیرمعمولی طور پر بڑھائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ مختلف جانوروں میں اب تک 16 لاکھ 70 ہزار مختلف وائرس دریافت ہوچکے ہیں جن میں ڈینگی، زیکا، ایبولا اور ایڈز سمیت ہزاروں اقسام کے جان لیوا اور مہلک وائرس شامل ہیں۔ وائرس بڑی خاموشی سے حملہ آور ہوتے ہیں اور ان کے اثرات اسی وقت ظاہر ہوتے ہیں جب وہ اپنا کام دکھا چکے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وائرس کی بروقت شناخت بہت اہمیت رکھتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، اگر ہم کسی طرح ابتدائی مرحلے میں ہی وائرس کی شناخت کرنے کے قابل ہوجائیں تو بروقت حفاظتی اقدامات کرسکیں گے اور یوں وائرس سے پھیلنے والی ممکنہ وباؤں کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی روکا جاسکے گا۔ البتہ، وائرس کی شناخت کرنے والے، اب تک کے تمام طریقے بہت سست رفتار ہیں جو کئی گھنٹے اور بعض اوقات کئی دنوں کے بعد ہی کسی وائرس کے موجود ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، یہ طریقے بہت مہنگے بھی ہیں جو ہر ایک کی پہنچ میں نہیں۔

’’وائریون‘‘ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ صرف چند انچ جسامت کے آلے پر مشتمل ہے جو صرف چند منٹوں میں کسی وائرس کی موجودگی یا عدم موجودگی کی تصدیق کردیتا ہے۔ یہ کسی بھی وائرس کو سب سے پہلے اس کی جسامت کی بنیاد پر شناخت کرتا ہے اور پھر رامن طیف نگاری (رامن اسپیکٹرو اسکوپی) کی مدد سے اس کی مخصوص انفرادی تھرتھراہٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے، شناخت کا عمل حتمی طور پر مکمل کرتا ہے جس میں مجموعی طور پر صرف چند منٹ لگتے ہیں۔

اسے ایجاد کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’وائریون‘‘ کا استعمال کسی ایک شعبے تک محدود نہیں۔ اسپتالوں اور شفا خانوں میں اسے وائرس سے وابستہ امراض کی تیز رفتار اور حتمی تشخیص میں استعمال کیا جاسکے گا۔ دوسری جانب کسان بھی اپنی فصلوں پر حملہ کرنے والے وائرسوں کو حملہ آور ہونے سے پہلے ہی شناخت کرکے فوری کارروائی کرسکیں گے اور یوں اپنی قیمتی فصل کا تحفظ کرسکیں گے۔ ٹھیک اسی طرح مویشیوں میں پھیلنے والے خطرناک وائرسوں کی قبل از وقت شناخت سے مویشی بانی کی صنعت کو بہت فائدہ پہنچے گا۔

فی الحال یہ آلہ اپنی تجرباتی آزمائشوں میں کامیاب ہوچکا ہے لیکن یہ کب تک اور کتنی لاگت میں فروخت کےلیے دستیاب ہوگا؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here