ٹیکس نادہندگان 4 فیصد ٹیکس کی ادائیگی کرکے اپنے اثاثے ظاہر کر سکتے ہیں فوٹو: فائل

 اسلام آباد: حکومت کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی مدت ختم ہونے میں 2 دن رہ گئے ہیں اور اس دوران دبئی سے اثاثے ظاہر کرنے والے سب سے آگے ہیں۔

حکومت کی جانب سے ایسیٹس ڈیکلیریشن آرڈینس 2019 کے نام سے جاری کردہ ایمنسٹی اسکیم کے تحت ٹیکس نادہندگان 4 فیصد ٹیکس کی ادائیگی کرکے اپنے ملکی اور غیر ملکی اثاثے ظاہر کر سکتے ہیں۔ ایمنسٹی اسکیم کی مدت 30 جون کو ختم ہورہی ہے۔ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے آن لائن پورٹل پر شدید دباؤ پڑ چکا ہے۔ جس کی وجہ سے متعدد صارفین کو اثاثے ظاہر کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی میں متحدہ عرب امارات سے اثاثے ظاہر کرنے والے سب سے آگے ہیں، پاکستانیوں نے دبئی کی جائیدادوں کو بڑے پیمانے پر ظاہر کیا ہے۔

ایف بی آر نے اثاثے ظاہر کرنے والوں کی شکایات کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، ایف بی آر پورٹل پر دباؤ کو کم کیا جارہا ہے، کراچی , لاہور اور راوالپنڈی میں 3 کمشنرز کو آن لائن سسٹم اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں، ایف بی آر پورٹل کو آن لائن رکھنے کے لیے پرال کا عملہ بھی متحرک کردیا گیا۔

تاجروں، سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں نے ٹیکس ایمنسٹی کی مدت میں 3 ماہ کی توسیع کا مطالبہ کیا ہے، اس کے علاوہ بینک اور چارٹرڈ اکاونٹنٹس فرم بھی اسکیم کی مدت میں توسیع کا مطالبہ کررہی ہیں۔ جس کے بعد ایسیٹس ڈکلیریشن آرڈینس 2019 کی میعاد میں توسیع کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب چیئرمین ایف بی آر نے ٹیکس ایمنسٹی کا پورٹل ہر صورت آن لائن کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ ایف بی آر نے اثاثے ظاہر کرنے والوں کی شکایات کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، ایف بی آر پورٹل پر دباؤ کو کم کیا جارہا ہے، کراچی , لاہور اور راوالپنڈی میں 3 کمشنرز کو آن لائن سسٹم اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں، ایف بی آر پورٹل کو آن لائن رکھنے کے لیے پرال کا عملہ بھی متحرک کردیا گیا۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی مدت بڑھانا بہت مشکل ہے کیونکہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی مدت بڑھانے کیلئے وزیراعظم نے کوئی ہدایات جاری نہیں کیں، 30 جون تک ایسیٹس ڈیکلیریشن آرڈینس 2019 سے مستفید ہونے والوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائیں گی، ایف بی آر کے تمام فیلڈ دفاتر 29 جون کو رات 8 بجے جب کہ 30 جون کو رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، تمام ٹیکس گزار ٹیکسز، ڈیوٹیز اور ٹیکس گوشوارے جمع کرا سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here