پسماندہ ملکوں کی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام میں تعلیم کے فقدان کے علاوہ شخصیت پرستی اور خاندان پرستی کی وبا بڑی شدید ہے۔ اس ذہنیت کو اشرافیہ کے طرفدار اور زیادہ مضبوط کرنے کے لیے عوام کو شخصی اور خاندانی غلامی کی ترغیب دیتے ہیں اور یہ سارا کام اس منظم انداز میں ہوتا ہے کہ کسی کو شک تک نہیں ہوتا کہ یہ اشرافیہ کی ایسی سازش ہے جس کا مقصد عوام کو شخصیت پرستی اور خاندان پرستی کی زنجیروں میں اس طرح جکڑ کر رکھنا ہے کہ وہ ان کی سیاسی ضرورتوں کا ایندھن بنے رہیں۔

اس کے علاوہ دولت کا بے دریغ استعمال ہے۔ انتخابات کے موقعے پر اپنے حلقے میں اشرافیہ لنگر کھولے رکھتی ہے، ٹرانسپورٹ فراہم کرتی ہے اور بعض صورتوں میں دہاڑی بھی دیتی ہے۔ اس ساری پریکٹس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ووٹر ’’امیدوار‘‘ کے قابو میں رہے۔

پاکستان میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں تو وڈیرہ شاہی نے دیہی عوام کو غلام بنا رکھا ہے کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ اگر کوئی سر پھرا ہاری یا کسان وڈیروں کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے تو اسے طرح طرح سے مغلوب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ہاریوں اور نافرمان کسانوں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرنا توایک عام بات ہے جس میں ہاری اور کسان ساری زندگی پھنسا رہتا ہے، علاقے کا پولیس افسر جہاں صبح سے پہلے ’’سائیں‘‘ کو سلام کرنے جاتا ہو وہاں ہاریوں کسانوں کا حشر کیا ہو سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل بات نہیں، یہی نہیں بلکہ ہاریوں اور کسانوں کا پورا خاندان وڈیروں کی غلامی میں لگا رہتا ہے۔

عوام، خاص طور پر دیہی عوام، وڈیروں کی غلامی کو اپنا مقدر سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں وڈیرہ شاہی کے خلاف اسٹینڈ لینے کی سوچ بھی پیدا نہیں ہوتی۔ ہمارے ملک میں آنکھ بندکر کے جمہوریت کی حمایت کرنے والے ’’بابو لوگوں‘‘ کو کیا یہ علم نہیں کہ ہمارے ملک میں سرے سے وہ جمہوریت بھی نہیں جہاں عوام اپنی مرضی سے اپنا ووٹ کاسٹ کریں۔ ایسے اندھے بہرے اور ’’مصلحت پسند‘‘ دانشوروں کی موجودگی میں یہ توقع کرنا کہ وقت کے ساتھ عوام میں بیداری آ جائے گی ایک حماقت کے علاوہ کچھ نہیں۔

ہمارا دانشور طبقہ صبح سے شام تک جمہوریت کی وکالت میں اپنی ساری صلاحیتیں صرف کر دیتا ہے۔ کیا اس طبقے کو یہ اندازہ نہیں کہ ہمارا جمہوری نظام 60-70 سال پہلے جہاں کھڑا تھا آج بھی وہیں کھڑا ہے بلکہ اور پیچھے چلا گیا ہے۔ کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام کے طرفدار ان کی جمہوریت کو پروان چڑھانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ جب تک ووٹر کو اس بات کا ادراک نہیں ہوتا کہ اس کے ووٹ کی کیا اہمیت ہے اور وہ اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے طبقے کی قسمت بنا بھی سکتا ہے بگاڑ بھی سکتا ہے۔

ہماری جمہوریت اب ترقی کر کے ’’خاندانی جمہوریت‘‘ میں بدل گئی ہے، اب باضابطہ ولی عہدی نظام قائم کر دیا گیا ہے اور سیاسی راجوں، مہاراجوں کی نا اہل اولاد اپنے بزرگوں کی جگہ لے کر عوام کے سروں پر مسلط ہو رہی ہے بلکہ اب تو اشرافیہ کے بوڑھے طوطے اپنے نونہالوں کو سیاست کے پیچ و خم کے حوالے سے پریکٹیکل کروا رہے ہیں کہ عوام میں کس طرح جانا چاہیے اور اپنی ہستی کو عوام میں کس طرح اجاگر کرنا چاہیے۔

حقیقی معنوں میں جمہوریت اشرافیہ کی اولاد کے لیے پریکٹیکل کی حیثیت اختیارکر گئی ہے۔ بڑوں کی نقل میں اشرافیہ کی آل اولاد تقاریرکی جو نقل کرتی ہے اس میں آواز کے بے ڈھنگے پن کی وجہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بکرے کا بچہ بے تکے پن سے میں، میں کر رہا ہے۔

دکھ اس بات کا ہے کہ ہمارے دانشور یہ ساری حرکتیں دیکھ رہے ہیں اور مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ’’دانش ور‘‘ فرماتے ہیں آتے آتے آئے گا ان کو جمہور کا خیال جاتے جاتے بے خودی جائے گی۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ اربوں کی کرپشن کا ارتکاب کرنے والے اور اشرافیہ اور اس کی اولاد کو جمہوریت کے پاسبان سمجھتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں۔ جب اس طرز عمل پر کوئی ناراضگی کا اظہار کرتا ہے تو ترنت جواب دیا جاتا ہے۔ آتے آتے آئے گا ان کو جمہوریت کا خیال جاتے جاتے بے خودی جائے گی۔

عوام، خواہ ان کا تعلق شہروں سے ہو یا دیہات سے، اب تک سیاسی شعور سے بے بہرہ ہیں۔ کوئی فرد یا جماعت عوام میں سیاسی اور طبقاتی شعور پیدا کرنے کی بھولے سے بھی کوشش نہیں کرتی، اس کے برخلاف اشرافیائی جمہوریت کی شان میں قصیدہ گوئی کر کے عوام کا ذہنی استحصال کیا جاتا ہے۔ یہ ایسے کھلے حقائق ہیں جن سے آنکھیں بند کر کے ہم ایک مجرمانہ اور عوام دشمن کردار ادا کر رہے ہیں۔ جمہوری قذاقوں نے اپنے رتبے کو عوام میں برقرار رکھنے کے لیے مڈل کلاس کے معصومین کی خدمات حاصل کی ہوئی ہیں۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اشرافیہ کی لیڈرشپ کے استحکام اور تحفظ میں ہماری مڈل کلاس کا ’’معصوم‘‘ طبقہ اہم کردار ادا کر رہا ہے بلکہ بددیانت مڈل کلاس کی حمایت کے بغیر اشرافیہ نہ اپنی قیادت برقرار رکھ سکتی ہے نہ وجود۔ عوام اپنے قابل احترام دانشوروں سے کیا یہ سوال کرسکتے ہیں کہ جمہوریت میں موروثیت کہاں سے آ گئی ہے؟ اشرافیہ کے استحکام کی دوسری بڑی وجہ میڈیا کا منفی کردار ہے۔ میڈیا کے تازہ دماغ ارکان اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جمہوریت کے نام پر اشرافیہ کا راج ہے جو 71 سال سے جاری ہے ،کیا اس زیادتی کے خلاف میڈیا آواز اٹھاتا ہے؟

قیام پاکستان کے بعد تقریباً دو دہائیوں تک اس ملک میں ترقی پسند طاقتیں فعال تھیں اور عوامی جمہوریت کے قیام کے لیے کوشاں تھیں لیکن ترقی پسند طاقتوں کی غیر فعالیت جیسے جیسے بڑھتی گئی اشرافیہ مضبوط اور مستحکم ہوتی رہی اور اب اس کے اختیارات کا عالم یہ ہے کہ ٹول ٹیکس پر اگر اہلکار ٹول ٹیکس مانگتا ہے تو اشرافیہ کی یہ بددماغ اولاد کہتی ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ میرا باپ کتنا بڑا سیاسی لیڈر ہے؟

یہ سب حماقتیں یہ سب بددیانتیاں اس لیے ہو رہی ہیں کہ ہماری عوام اپنے حقوق سے واقف نہیں۔ جب عوام میں سیاسی شعور پیدا ہو گا اور ان کو جب یہ احساس ہو گا کہ ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں‘‘ تو یہ ساری موروثیت، یہ ساری نادرشاہی زمیں بوس ہو جائے گی بشرطیکہ ہمارا دانشور طبقہ اس پراسرار جمہوریت کی حمایت چھوڑ دے۔

The post پدرم سلطان بود appeared first on ایکسپریس اردو.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here