كوائف كے ساتھ ساتھ ان سے كٹوتی كردہ ود ہولڈنگ ٹیكس كی رقم كی تفصیلات بھی طلب، فوٹو: فائل

 کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے بینكوں كو یومیہ پچاس ہزار روپے سے زائد اور ایک ماہ میں دس لاكھ روپے یا اس سے زائد رقم نكلوانے والے لوگوں كے كوائف كے ساتھ ساتھ ان سے كٹوتی كردہ ود ہولڈنگ ٹیكس كی رقم كی تفصیلات بھی فراہم كرنے كو لازمی قراردیدیا ہے۔

ایف بی آر پچاس ہزار روپے سے زائد یومیہ كی مد میں  ایک ماہ كے دوران دس لاكھ روپے سے زائد رقوم نكلوانے والے فائلر و نان فائلر لوگوں  كی مانیٹرنگ كرے گا اور بینكوں  كی آن لائن سسٹم كے ذریعے فراہم كردہ ماہانہ اسٹیٹمنٹس سے حاصل كردہ معلومات كی بنیاد پر ان لوگوں  كے ذرائع آمدنی معلوم كی جائیں  گے،  اس ضمن میں  ایف بی آر كی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

اس بارے میں  فیڈرل بورڈ آف ریونیو كے سینئر افسر سے رابطہ كیا گیا تو انہوں  نے بتایا كہ پہلے والے ایس آر او میں  بینكوں  كیلئے ایف بی آر كو جمع كروائی جانیوالی رپورٹ میں  یومیہ پچاس ہزار اور ماہانہ دس لاكھ روپے سے زائد رقوم نكلوانے والے لوگوں  كے كوائف مانگے گئے تھے مگر اس میں  رقوم نكلوانے والوں  سے كٹوتی كردہ ود ہولڈنگ ٹیكس كی رقم كے اندارج شامل نہیں  تھا اب بینكوں  كو صارفین سے كٹوتی كردہ ود ہولڈنگ ٹیكس كی رقم بھی بتانا ہوگی۔

مذكورہ افسر نے بتایا كہ پہلے جاری كئے جانیوالے نوٹیفكیشن كے تحت ایف بی آر كے قرضے معاف كروانے والوں  ،كرنسی ٹرانزیكشن رپورٹ اورمشكوک ٹرانزیكشن كرنے والوں  كی تفصیلات حاصل كرنے كے اختیارات ختم كردیئے گئے ہیں اور ایف بی آر كے اختیارات كو صرف بینكوں سے قرضوں  پر منافع كی تفصیلات حاصل كرنے اور ایک ماہ میں  دس لاكھ روپے یا اس سے زائد رقم نكلوانے والے لوگوں كے كوائف اور ان سے كٹوتی كردہ ود ہولڈنگ ٹیكس كی اسٹیٹمنٹس كی تفصیلات تک محدود كیاگیا ہے۔

اب كٹوتی كردہ ود ہولڈنگ ٹیكس كی رقم بھی بتانا ہوگی اور بینكوں  كو یہ معلومات آن لائن سسٹم كے ذریعے الیكٹرانیكلی ایف بی آر كو فراہم كرنا ہونگی تاہم اب بینكوں  كو نان فائلرز كے ساتھ ساتھ مخصوص كٹیگری كے حامل فائلر ٹیكس دہندگان كی تفصیلات بھی آن لائن ایف بی آر كو فراہم كرنا ہونگی جس كے لئے انكم ٹیكس رُولز 2002 میں  ترامیم كی گئی ہیں  اور انكم ٹیكس رُولز 2002 كے چیپٹر VIIIA میں  ترامیم كركے رُول39 بی كے ذیلی رُول ایك كی كلاز ڈی ختم كردی گئی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here