اس لباس پر اب تک بند گوبھی، شلجم، اسٹرابیری اور مونگ پھلیوں سمیت 22 پھل اور سبزیاں اگائی جاچکی ہیں۔ (فوٹو: آروسیاک گیبریلیان)

سان فرانسسکو: ایک فرانسیسی نژاد امریکی ڈیزائنر آروسیاک گیبریلیان نے اچھوتا لباس تیار کیا ہے جو دراصل مختلف سبزیوں اور پھلوں کے چھوٹے چھوٹے پودوں پر مشتمل ہے۔

یہ لباس جسے ’’پوسٹ ہیومن ہیبی ٹیٹ‘‘ (بعد از انسان رہائش گاہ) کا نام دیا گیا ہے، پودوں کے فرانسیسی ماہر پیٹرک بلانک کے عمودی کھیتوں سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے جن میں مٹی بالکل بھی استعمال نہیں ہوتی۔ ٹھیک اسی طرح سبزیوں اور پھلوں والے اس لباس میں بھی سارے پودے کپڑے پر اُگائے گئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس لباس کی تیاری میں کم سے کم 15 دن اور زیادہ سے زیادہ ایک ماہ لگتا ہے کیونکہ پہلے اس کے دبیز کپڑے میں خاص طرح سے پودوں کے بیج بوئے جاتے ہیں جنہیں نمایاں طور پر بڑا ہونے میں دو ہفتے سے ایک مہینہ درکار ہوتا ہے۔

یہ تو معلوم نہیں کہ اب تک یہ لباس کس کس نے خریدا اور استعمال کیا ہے لیکن اتنا ضرور پتا چلا ہے کہ جو شخص بھی اس لباس کا پہننے والا ہوگا، اسی کا پیشاب (فارورڈ اوسموسس سے گزارنے کے بعد) صاف کرکے ان پودوں کی آبیاری میں استعمال کیا جائے گا۔

گیبریلیان کے مطابق، یہ لباس نہیں بلکہ دنیا کا سب سے پہلا ’’پہننے کے قابل باغ‘‘ ہے جس پر وہ اب تک بند گوبھی، شلجم، اسٹرابیری اور مونگ پھلیوں سمیت 22 سبزیاں اور پھل بڑی کامیابی سے اُگا چکی ہیں؛ اور جب یہ لباس تیار ہوجاتا ہے تو اس میں سے بھینی بھینی قدرتی خوشبو اٹھتی ہے جو نہ صرف اسے پہننے والے پر بلکہ آس پاس موجود لوگوں پر بھی خوشگوار تاثر قائم کرتی ہے۔

ساری معلومات آپ کے سامنے ہیں۔ اب فیصلہ آپ خود کرلیجیے کہ اسے ’’حقیقی پودوں والا لباس‘‘ کہا جائے یا پھر ’’پہننے کے قابل باغ‘‘ سمجھا جائے؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here