2019 کو جب بھی کوئی مورخ تحریر کرے گا ، وہ یقینی طور پر اسے عوامی مظاہروں کا سال قرار دے گا۔ سڑکوں پر مشتعل ہجوم کی تصاویر، ڈنڈے بردار جلوسوں کا احوال ، ریاستی مزاحمت اور اس کے بعد جا بجا ہونے والے مسلح تصادم 2019 کی یادوں کے ضمن میں تاریخ دانوں کا دلچسپ ترین موضوع بنے رہیں گے۔ عین ممکن ہے کہ چند دہائیوں بعد ، لوگ مورخ کی ذہنی حالت پر شبہ کریں اور اس کی ایسی کسی بات کو سرے سے مان کر ہی نہ دیں جس میں وہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ 2019 واقعی دنیا کی بے شمار حکومتوں کے لیے عوامی دباؤ اور بڑی تبدیلیوں کا سال تھا۔

اس سال مچی بھی تو ایک قیامت رہی۔ ہانگ کانگ کی سڑکوں پر بھی شور ، الجیریا اور سوڈان کے چوراہوں پر بھی ہاہا کار ، بولیویا ، عراق اور لبنان میں گونجتے عوامی نعرے اور حاکموں کے چہروں پر اڑتی ہوائیاں ، مصر ، ہیٹی اور گیانا کا بھی سکون غارت ، برطانوی عوام بھی چیخے تو فرانسیسی بھی بپھرے ، سڑکیں روس کی بھی عوامی اشتعال سے سہمی رہیں۔

کولمبیا ، اسپین اور مالٹا کے عوام کا غیض بھی نہ سنبھل سکا ، انڈونیشیا ، بنگلہ دیش ، ایران اور پھر بھارت میں بھی عوام کے صبر کا پھٹتا لاوا۔ بھلا بتائیے ایک انٹارکٹیکا کے سوا کیا اورکسی بر اعظم میں سکون نظر آیا ؟ ہر طرف بس ہائے ہائے اور ہائے۔ 1989، 1968 اور2011 کے بعد2019  ہی وہ سال رہا جب عوامی مظاہروں نے بے شمار خطوں کے حکمرانوں کوگھٹنے ٹیکنے پر مجبورکر دیا۔ 2019 میں پوری دنیا میں جس بڑی تعداد میں عوامی مظاہرے دیکھنے کو ملے ، اس کی مثال ماضی میں بہت کم ملتی ہے۔

فروری میں الجیریا میں عوامی مظاہروں کی ابتدا ہوئی۔ اس کو Revolution of Smile  کا نام دیا گیا۔ الجیریا کے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے اپنے منصب کے پانچویں دورکا حلف اٹھایا تو عوام بپھرگئے اور انھوں نے مظاہرے کیے اور صدرکے خلاف فوج سے مدد مانگی ، بالآخر اپریل تک جاری مظاہروں میں عوام کی فتح ہوئی اور صدرکو مستعفی ہونا پڑا۔ سوڈان میں عوامی مظاہروں کی ابتدا اگرچہ 19دسمبر 2018 میں مہنگائی کے خلاف عوام کے سڑکوں پر نکل آنے سے ہوئی تھی لیکن 2019 یہاں ہونے والے مظاہروں کے عروج کا سال رہا۔

سول نا فرمانی کی تحریک میں عوام نے تیس سال سے قابض حکمراں عمر البشیر کو منصب سے ہٹا تو دیا لیکن اس کے بعد بھی امن سوڈان کا مقدر نہ بن سکا۔ صدرکا تختہ الٹنے کے بعد فوج اقتدار پر قابض ہوگئی اور دو سال تک حکومت کرنے کا اعلان کر دیا۔ مشرقِ وسطیٰ کی طاقتیں موقع سے فائدہ اٹھا کر خرطوم میں مداخلت کرنے لگیں، جس کی وجہ سے سڑکیں عوام کے خون سے رنگ گئیں۔ اگست میں ایک خود مختار کونسل کے قیام کے بعد بالآخر مظاہروں میں ٹھہراؤ آیا اور امن اس خطے کا نصیب بنا۔

لاطینی امریکا کے ممالک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ بولیویا ، وینز ویلا ، چلی ، ہیٹی ، ایکوا ڈور، کولمبیا اور پیٹرورائیکو میں کم آمدنی ، سیاسی اور مالی کرپشن ، سیاست دانوں کے اسکینڈلز اور نجی ملکیت کے معاملات ان مظاہروں کی بڑی وجہ بنے۔ ان تمام ممالک میں عوام کے مطالبات تقریباً ایک جیسے رہے، جس میں جمہوریت ، سالوں سے مسلط حکمراں چہروں کی تبدیلی، اصلاحات اورکرپشن کا خاتمہ سرفہرست تھے۔ ہیٹی میں مظاہروں کی ابتدا اگرچہ 2018 کے وسط سے ہوئی لیکن تاحال یہاں امن قائم نہیں ہوسکا۔ وینیز ویلا سے ملنے والے فنڈ کے استعمال میں بے ضابطگی پر صدر موائس کے خلاف اپوزیشن نے مظاہرے شروع کیے جو جلد ہی ایک عوامی تحریک میں تبدیل ہوگئے۔ اب تک ان مظاہروں میں سترہ افراد ہلاک جب کہ ایک سو نوے زخمی ہوچکے ہیں۔

اکتوبر2019 میں بولیویا میں ہونیوالے انتخابات کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے یہاں بہت بڑے عوامی مظاہروں کا آغاز ہوا۔ یہ مظاہرے گیس کی قیمتوں کے خلاف اور دوبارہ الیکشن کروانے کے لیے کیے جا رہے تھے۔ صدارتی انتخابات میں موریلز نے کامیابی حاصل کی تھی جس پر عوام میں غصہ اور بے چینی عروج پر پہنچ گئی اور وہ سڑکوں پر جمع ہوگئے۔ ان خونیں مظاہروں میں تینتیس ہلاکتیں ہوئیں جب کہ آٹھ سو چار افراد زخمی اور پندرہ سو کے قریب گرفتار ہوئے۔

وینیزویلا کا کئی سال سے جاری تنازعہ اس سال بھی سر فہرست رہا۔ صدر مدورو کے خلاف یہ مظاہرے جنوری کے مہینے سے شروع ہوئے اور تاحال جاری ہیں۔ تین اکتوبر کو ایکواڈور کی سڑکوں پر عوام ، حکومت کے اس اعلان کے بعد نکل پڑے جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ حکومت ایندھن پر کئی دہائیوں سے جاری سبسڈی کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں ختم کر رہی ہے۔ اس کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا اور لوگوں کی قوتِ خرید دم توڑ گئی۔

یوں یہاں پُر تشدد مظاہرے شروع ہوگئے جس کے بعد ایمرجینسی نافذ کر دی گئی۔ صدر لینن کی کفایت شعاری مہم کو لوگوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور قومی اسمبلی میں داخل ہوکر ’’ ہم عوام ہیں ‘‘ کہ نعرے لگاتے رہے۔ مظاہرین نے صدر سے استعفٰی کا مطالبہ بھی کیا۔ ایکوا ڈورکے صدرکو 7لاطینی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے لہٰذا وہ اس عہدے پر تاحال موجود ہیں لیکن مظاہروں میں 7افراد کی ہلاکت کے بعد بالآخر ایک سمجھوتے کے نتیجے میں مہینے بھر کے اندر اندر یہ مظاہرے ختم ہوگئے۔

اکتوبر کا مہینہ چلی کی حکومت پر بھی بھاری رہا جب دس لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے اور معاشی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ صدر نے اہم اقدامات کرتے ہوئے کابینہ کو بر طرف کر دیا اور تمام وزرا کو نوٹس بھیجا کہ کابینہ کو از سر نو ترتیب دیا جائے تاکہ نئے مطالبات کو پورا کیا جاسکے۔ ان مظاہروں میں پرتشدد واقعات بھی پیش آئے جن کے نتیجے میں سترہ افراد ہلاک اور سات ہزار گرفتار ہوئے۔ صدر کی طرف سے مظاہرین کو وحشی قرار دیے جانے پر مزید ہنگامے پھوٹ پڑے ، جس کے بعد یہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

سال کے اختتام پر بھی دنیا بھر میں تشدد کی وبا رکی نہیں۔ ایسا تاثر ملا جیسے عالمی سطح پر سازش رچانے والے اپنی چالیں چل رہے ہیں کہ مختلف ممالک کے لوگ خانہ جنگی کی طرف جا رہے ہیں۔ کہیں حکومت آس پاس کے علاقوں کو زبردستی اپنے علاقے میں ضم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور کہیں علاقے اپنی خود مختاری کے لیے حکومت کے ساتھ برسر پیکار ہے۔ ایسی ہی خانہ جنگی انڈونیشیا میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں دنگے فساد کے نتیجے میں درجنوں لوگ ہلاک ہوگئے۔

انڈونیشیا کے علاقے پاپوا میں نسل پرستی کے خلاف ستمبر میں مظاہروں کے بعد احتجاج کا سلسلہ وسیع ہوگیا اور مظاہرین نے خطے کی خودمختاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کئی سرکاری عمارتوں کو نذر آتش کر دیا جس کے نتیجے میں کم ازکم 27 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ ستمبر 2019 مصرکی سر زمین پر ایک بار پھر بھاری ثابت ہوا۔ ہزاروں افراد نے قاہرہ سمیت کئی شہروں میں مظاہرے شروع کر دیے اور صدر عبد الفتح سیسی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ یہ مظاہرے سیسی کے شاہانہ طرز زندگی اور عام آدمی کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی پر شروع ہوئے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ مصر کے کسی مغربی اتحادی نے ان مظاہروں پر ایک لفظ ادا کرنے کی بھی زحمت نہ کی۔

اکتوبر کے مہینے میں ہی لبنان میں ہونے والے عوامی مظاہرے گزشتہ ایک دہائی میں ملک میں ہونے والے سب سے بڑے اور منظم مظاہرے تھے۔ عوام میں غصے کی لہر دیکھتے ہوئے حکومت نے پارلیمان کے ارکان کی تنخواہوں میں کٹوتیوں کا اعلان کر دیا۔            ( جاری ہے )

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here